کچھ عرصہ پہلے ما ہنا مہ عبقری میں امتحان میں کا میا بی حا صل کر نے کا ایک وظیفہ شا ئع ہو ا ‘ جسے ہزاروں سٹوڈنٹس نے آزمایا اور اس کی بر کت سے امتحان میں بہترین نمبر حا صل کیے ۔جو لو گ عبقری وظا ئف پر اعترا ض کر تے ہیںکہ یہ خود سا ختہ ہو تے ہیں انہیں دیکھنا چا ہئے کہ یہ وظیفہ کہاں سے آیا ۔
حضر ت مولا نا مفتی دین محمد صا حب ؒفرما تے ہیں کہ اگر کسی طا لب علم کو نتیجہ امتحا ن کے با رے میں تشویش ہو تو وہ تین دن تک روزا نہ با وضو قبلہ کی طر ف منہ کر کے بیٹھے اور ایک ہی نسشت میں گیا رہ ہزا ر مر تبہ’’ یا حسیب ‘‘پڑھےتو ان شا ء اللہ نتیجہ حسبِ مرا د نکلے گا۔
(بحوالہ کتا ب : خز ینۃ الا سرا ر ‘صفحہ 35مصنف : مولا نا احمد علی بن شا ہ دوست پنجگوری ؒ نا شر : کتب خا نہ مجید ‘بو ہڑ گیٹ ‘ملتا ن )
قا رئین ! ہر سنی سنا ئی با ت پر یقین کر نا کہاںکی دا نش مند ی ہے ؟ہمیں چا یئے کہ اپنے اکا بر و اسلا ف سے بذاتِ خود آشنا ئی حا صل کر یں ۔ ان کے وظا ئف پڑھیں ‘ان کے عملیا ت آزما ئیں اور ما ہنا مہ عبقر ی کی طر ح پو رے معا شرے میں خیر وبر کت پھیلا نے کا ذریعہ بن جا ئیں۔ ہما رے اکا بر ین نے انہی وظا ئف کے ذریعے ہی زندگی کے قد م قدم پر اللہ جل شا نہ کی مد د حاصل کی تھی اور تو اور ۔۔ خود حضور سر ور کو نین ﷺ سے بھی قدم قد م پر جو دعائیں اور مسنو ن اعمال ثا بت ہیں ‘ان کا یہی مطلب ہے کہ انہوں نے بھی اسبا ب کی دنیا میں رہتے ہوئے مسبب ا لاسبا ب کی طر ف نگا ہ جما ئے رکھی ۔
یہی عبقری کا پیغا م ہے کہ اعمال سے بننے‘ اعما ل سےپلنے اور اعما ل کے ذریعے بچنے کا یقین ہما رے دلو ں میں پختہ ہو جا ئے۔
