Tasbeeh Khana Mein 12 Rabi Ul Awal Ki Mehfil Aur Amaal 611

تسبیح خانہ میں 12 ربیع الاول کی محفل اور اعمال خود ساختہ ہیں یا ہمارے اکابرین کی ترتیب کا حصہ

تسبیح خانہ کی شروع دن سے یہ ترتیب ہے کہ لوگوں کے مسائل اور الجھنوں کے حل کے لئے ان کو وہ اعمال‘ذکر اور تسبیح دی جائےجو قرآن‘حدیث ‘صحابہ ؓواولیاءؒاورسلف صالحین ؒ سے ثابت ہوں۔تسبیح خانہ میں 12ربیع الاول کے مخصوص دن پر موئے مبارک کی زیارت اور لنگر کی تقسیم کیا یہ عمل بھی اکابرین کی ترتیب کا حصہ تھے ۔آئیے جانتے ہیں۔

حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے معمول میں شامل تھا کہ ہر سال 12 ربیع الاول کے موقع پرموئے مبارک کی زیارت کرتے اور لنگر بھی تقسیم کرتے تھے جس سے انہیں بہت سے فوائد و کمالات کا مشاہدہ ہوا۔ذیل میں چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔

حسب دستور 12 ربیع الاول کو میں نے قرآن پاک کی تلاورت کی اور حضور ﷺ کی کچھ نیاز(لنگر) تقسیم کی اور آپ کے موئے مبارک کی زیارت کروائی۔اس موقع پر فرشتوں کا نزول ہوا اور رسول اللہﷺ کی روح پر فتوح نے اس فقیر اور اس سے محبت کرنے والوں کی طرف بہت التفات فرمائی۔اس وقت میں نے دیکھا کہ فرشتوں کی ٹولی اور ان کے ساتھ مسلمانوں کی جماعت نیاز مندی اور عاجزی کی بناء بلند ہو رہی ہے۔اس کیفیت کی برکتیں اور انوارات نازل ہو رہے ہیں۔(بحوالہ :القول الجلی فی ذکر آثار الولی ‘ ص۶۹‘۷۰‘۱۸۲‘ ملفوظات حضرت شاہ ولی اللہ ؒ ،مؤلف‘حضرت مولانا محمد عاشق پھلتی ؒ‘ناشر:شاکر پبلی کیشنز‘لاہور)

مکہ معظمہ میںروز ولادت سرور کائناتﷺ کی محفل میلاد شریف میں لوگوں کا ایک جم غفیر تھا ۔لوگ آپ ﷺ پر صلوۃ و سلام اور آپ کے معجزات بیان کرنے میں مشغول تھے۔میں نے اس دوران وہاں بجلی چمکتی ہوئی کوئی چیز دیکھی۔مجھے اس ادراک کی فکر ہوئی کہ کیا وہ نگاہ ظاہر سے ہے یا نگاہ باطن سے۔پھر جب میں نے غور کیا تو دیکھا کہ یہ ان ملائکہ کے انوار ہیں جو اس متبرک مقام پر مامور ہیں اور ان میں انوار رحمت بھی شامل ہیں۔اس کی مزید تفصیل فیوض الحرمین میں موجود ہے۔(بحوالہ :القول الجلی فی ذکر آثار الولی‘ص ۱۶۲‘۱۶۳‘ ملفوظات حضرت شاہ ولی اللہ ‘ مؤلف‘ حضرت مولانا محمد عاشق پھلتی ؒ‘ناشر:شاکر پبلی کیشنز‘لاہور)

حضرت ابو عمران واسطی ؒفرماتے ہیںکہ میں مکہ مکرمہ سےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر کی زیارت کے ارادہ سے روانہ ہوا۔ جب میں حرم سے باہر نکلا تو اچانک مجھے اتنی شدید پیاس لگی کہ میں اپنی زندگی سے مایوس ہو گیا۔ میں اپنی جان سےنا امید ہو کر ایک کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا‘ کچھ دیر بعد سبز گھوڑے پر سوار ایک شہسوار میرے پاس پہنچے، اس گھوڑے کا لگام بھی سبز تھا، زین بھی سبز تھی اور سوار کا لباس بھی سبز تھا اور ان کے ہاتھ میں سبز گلاس تھا جس میں سبز ہی رنگ کا شربت تھا۔ وہ انہوں نے مجھے پینے کے لئے دیا میں نے تین مرتبہ پیا مگر اس گلاس میںسے کچھ کم نہ ہواپھر انہوں نے مجھ سے دریافت کیاکہ تم کہاں جا رہے ہو؟میں نے کہا کہ میرا مدینہ طیبہ حاضری کا ارادہ ہےتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام کروں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوںکو سلام کروں۔ شہسوار نے فرمایا کہ جب تم مدینہ پہنچ جائو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضرات شیخین کی خدمت میںسلام کر لو تو یہ عرض کر دینا کہ رضوان آپ تینوں حضرات کی خدمت میںسلام عرض کرتے تھے۔ رضوان اس فرشتہ کانام ہے جو جنت کے ناظم ہیں۔ (حوالہ: ص۱۳۰، فضائل صدقات، مصنف : مولانا ذکریا ؒ)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تسبیح خانہ امت کو شرک و بدعت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر اکابرین کی روشن ترتیب پر لا رہا ہے۔

Tasbeeh Khana Mein 12 Rabi Ul Awal Ki Mehfil Aur Amaal 611

فیس بک پر پڑھیں

کیا تمام اکابرین و اسلاف مرزائی تھے؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025