Farsi Ka Aik Sher Aur Bay Baha Rizq Qisat 610

فارسی کا ایک شعر اور بے بہا رزق

شیخ الوظائف نے فارسی کے درج ذیل شعر کا ایک وظیفہ بتایا جس کو پڑھنے سے اللہ کے غیب کے خزانوں سے بے بہا برکت والا رزق ملتا ہے ۔

یہ وظیفہ مخلوقِ خدا نے آزمایا ‘عبقری سوشل میڈیا اور تسبیح خانہ آنے والے مجمع نے اپنے مشاہدات میں یہ بتایا کہ واقعتاً اس وظیفہ سے رزق میں بہت زیادہ برکت اور وسعت ملتی ہے۔اس وظیفہ کے متعلق کچھ مخلصین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک شعر کے پڑھنے سے کیسے رزق میں وسعت اور برکت ہو سکتی ہے اور ایسے کلمات کی ترتیب تو ’’ اکابر ینؒ‘‘کی زندگی میں نہیں ملتی۔

آئیے اس وظیفہ کے متعلق حقائق کو جانتےہیں کہ کیا ایسے بول اور اشعار اکابرؒ کی زندگی میں شامل تھے اور حدیث سے بھی کوئی ایسی بات ثابت ہے۔

حدیث شریف میں سیدنا عوف بن مالک ؓ کا بیان ہے کہ ہم جاہلیت میں دم جھاڑ کیا کرتے تھے تو ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” اپنے دم مجھے بتاؤ ، دم کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ شرک نہ ہو ۔ “

ایسے دم جن کے الفاظ مفہوم و معنی میںواضح ہوں شرک کا شائبہ نہ ہو اور تجربے سے مفید ثابت ہو ئے ہوں ان سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے۔ ( شرح حدیث3886سنن ابی داؤد‘ باب: دم جھاڑ کا بیان‘جامع الکتب اسلامیہ)

قارئین!اگر مندرجہ بالا فارسی شعر کا ترجمہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس شعر میں بندہ اپنے گناہوں پر نادم و پشیمان ہو کر اللہ کی رحمت و فضل کا سوال کر رہا ہے۔اس لئے ان کلمات میں کہیں بھی شرک اور بدعت نہیں ہے۔آئیے اب اکابرؒ کی زندگی سے حوالہ ملاحظہ کیجئے!

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے پاس ایک دیہاتی آدمی آیااور عرض کرنے لگاکہ مجھے کوئی تعویذ دے دو۔حضرت مولانا گنگوہیؒ نے فرمایا کہ مجھے تو تعویذ نہیں آتا۔لیکن وہ شخص اپنی بات پر بضد تھا اور حضرت ؒ نے انہیں یہی فرماتے رہے کہ مجھے (تعویذلکھنا)آتا نہیں تو پھر کیسے دے دوں؟اس کے باوجود وہ شخص اپنی بات پر ضد کرتا رہا کہ مجھے میرے مسئلے کے لئے کوئی تعویذ دے دو۔حضرت ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا لکھوں‘ تو میں نے اس تعویذ میں لکھ دیا کہ ’’یا اللہ یہ مانتا نہیں‘ میں جانتا نہیں‘ آپ اپنے فضل و کرم سے اس کا کام کر دیجئے‘‘۔یہ لکھ کر میں نے اس شخص کو دے دیاکہ یہ (تعویذ )لٹکا لے۔اس نے لٹکا لیا اوراللہ تعالیٰ نے اسی کے ذریعہ اس کا کام بنا دیا۔

(حوالہ:اصلاحی خطبات‘ جلد 15‘مفتی تقی عثمانی صاحب)

حضرت ؒ کا ہی واقعہ ہے کہ ایک عورت آئی اور عرض کرنے لگی کہ جب میں سر کے بال بناتی ہوں تو مانگ ٹیڑھی بن جاتی ہے سیدھی نہیں بنتی‘اس کا کوئی تعویذ دے دو۔حضرت ؒ نے فرمایا مجھے تعویذ نہیں آتامگر وہ عورت پیچھے پڑ گئی اور اپنے مسئلے کے لئے جب تعویذ کا اصرار کرنے لگی تو حضرتؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک کاغذ پر لکھ دیا :بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ O اس کا تعویذ بنا کر پہن لو تو شاید تمہاری مانگ سیدھی نکل آئے۔امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (مانگ) سیدھی کر دی ہو گی۔’’بعض اوقات اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی نیک بندے سے کوئی درخواست کی گئی اور اس کے دل میں آیا کہ یہ بات لکھ دوں‘ شاید اس سے فائدہ ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے زریعے فائدہ دے دیا۔(حوالہ ایضاً)

ان حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض اوقات اللہ والوں کے کہے گئے الفاظ خدا کی بارگاہ میں ایسی قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں جس سے مخلوق فیض یاب ہو کر فائدہ پاتی ہے‘ یہ محض اللہ کا ہی فضل و کرم ہوتا ہے جس کی مثال درج بالا واقعات میں بیان کی گئی ہے۔

Farsi Ka Aik Sher Aur Bay Baha Rizq Qisat 610

فیس بک پر پڑھیں

دعائے حضرت علیؓ کو تسبیح خانہ نے عام کیا آئیے اس کے حوالہ جات کا ثبوت بھی تسبیح خانہ سے ہی لیجئے

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025