قسط نمبر 56
علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم نے کچھ عرصہ پہلے ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز کالم ” جنات کا پیدائشی دوست’ میں ایک اہم نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : کہ خواتین کو خود بھی مکمل لباس پہنا چاہئے اور اپنی کم سن بیٹیوں کو بھی مکمل لباس پہننے پر زور دینا چاہئے کیونکہ ہر عورت بچپن میں بھی عورت ہوتی ہے، جوانی اور بڑھاپے میں بھی عورت ہی رہتی ہے۔ پس جو خواتین اپنے لباس کا خیال نہیں رکھتیں، ان کے کھلے بازو کھلا گلا اور جسم کا ہر وہ حصہ جو ڈھکا ہوا نہ ہو اس پر جنات عاشق ہو جاتے ہیں ان اعضاء پر جنات اپنے جراثیم بھرے لعاب ملتے ہیں، جس سے سمجھ میں نہ آنے والی طرح طرح کی انوکھی بیماریاں جنم لیتی ہیں، رشتوں کی بندش اور بے اولادی کے مسائل وجود میں آتے ہیں.
یہ کالم پڑھ کر کئی لوگوں نے اعتراض کیا کہ بھلا جنات اتنے فارغ ہیں، جو انسانوں کو چمٹتے رہیں؟ بھلا جسمانی بیماریوں اور گھر لڑائی جھگڑوں کے پیچھے جنات کا عمل دخل کیسے ممکن ہے؟ بھلا خواتین کے لباس کے ساتھ جنات کا کیا لینا دینا؟
لیجئے قارئین ! ہم آپ کو 27 سال پہلے لکھی ہوئی کتاب میں سے اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ مولانا حافظ غلام حبیب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز مولانا حاجی احمد علی صاحب پنجگوری لکھتے ہیں : علامہ محمد مغربی کی شاہ جنات کے وزیر اسماعیل چن سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ جنات کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سے اکثر جنات انسانوں کے مردوں اور عورتوں کو ستا یا کرتے ہیں۔ حتی کہ ان میں سے بعض کی حالت تو یہ ہے کہ وہ انسانی عورتوں پر فریفتہ ہیں ان سے جماع کرتے ہیں اور انہیں اپنی بیوی بنانا پسند کرتے ہیں۔
بحوالہ کتاب: خزینۃ الاسرار، صفحہ 386 مصنف : مولانا حاجی احمد علی پنجگوری
خلیفہ مجاز : حضرت مولانا حافظ غلام حبیب صاحب ایشین یہ چکوال ناشر: کتب خانہ مجید یہ بوہر گیٹ ملتان
