قسط نمبر 57
اشرف المخلوقات کی بیماریوں میں جنات کا دخل کسی شخص نے مفتی اعظم، استاذ الحدیث مفتی محمود حسن گنگوی رحمتہ اللہ علیہ سے سوال پوچھا: بعض لوگ اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اس پر جنات کا اثر ہو گیا ہے۔ یہ بات کہاں تک درست ہے؟
فرمایا: اس بات میں کیا اشکال ہے؟ ایسا واقعی ہوسکتا ہے کیونکہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
یہ تم نے ارشاد فرمایا : میری امت کی زیادہ تر موت ” طعن اور طاعون کی وجہ سے ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: یا رسول اللہ طعن ( نیزہ بازی، تلوار سے لڑائی تو ہم جانتے ہیں، مگر یہ طاعون کیا چیز ہے؟ فرمایا: جو جنات تمہارے دشمن ہیں ان کا چوکا مارنا ( طاعون کہلاتا ہے ) بعض اوقات انسان کی بغل میں گلٹی نکل آتی ہے گلے میں یاران پر گلٹی نکلتی ہے در حقیقت یہ جنات کے اثر سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جن آدمی کو اٹھا کر پٹک بھی دیتا ہے بے ہوش بھی کر دیتا ہے دماغ بھی خراب کر سکتا ہے یہ سارا اختیار اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہوا ہے۔
میرے ایک دوست نے مجھے کہا کہ انسان تو اشرف المخلوقات ہے جنات اسے کیونکر ستا سکتے ہیں؟ میں نے کہا: اگر تمہارے چہرے پر ایک چھوٹا سا بھڑ کاٹ لے تو میں دیکھوں گا کہ اشرف المخلوقات کے چہرے کا حلیہ کیسا بنتا ہے؟ ( یعنی ایک چھوٹے سے بھر کو اللہ تعالیٰ نے اتنا اختیار دیا ہوا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات انسان کو آسانی سے نقصان پہنچا سکتا ہے تو جنات کو کتنی زیادہ طاقت حاصل ہوگی؟ اس لیے اگر ہم بھڑ سے بچاؤ کیلئے حفاظتی تدابیر کرتے ہیں تو خود سوچیں کہ جنات سے حفاظت کیلئے اعمال کرنے کتنے ضروری ہوں گے؟)
بحوالہ کتاب: مفتی محمود حسن کے منتخب ملفوظات ، صفحہ 78 مصنف: مفتی محمد فاروق صاحب استاذ جامعه محمودیه ناشر: مکتبہ دارالحدا اردو بازار کراچی
