درخت پر تعویذلٹکانے کی حقیقت کیا ہے؟ عبقری کے نئے فتنے کا پول کھل گیا!

جب سے عبقری سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ چلی ہے جس میں تعویذ درخت پر باندھنے کا ذکر ہے، کچھ کم علم رکھنے والے مخلصین اس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اس کو عبقری کا خود ساختہ بتا رہے ہیں۔ایسے افراد ہمارے اکابرینؒ کی زندگی سے ناآشنا ہیں۔ ہمارے اکابرینؒ کی کیا تعلمات ہیں اوروہ مخلوق خدا کو راحت پہنچانے کے لیے کن کن طریقوں کو اپنایا کرتے تھے؟ آئیں آپ کو چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔

1- کتاب’’ آسان عملیات و تعویذات‘‘ کے صفحہ نمبر 178 پر علامہ شیخ ابو العباس احمد بن علی بونی ؒ کا اسماء الحسنیٰ ؒ پر مشتمل ایک تعویذ لکھا ہے، جس میں انھوں نے نقش کو مریض جہاں لیٹا ہے وہاں لٹکانے کا فرمایا ہے۔اس سے مریض صحت یاب ہو جائے گا۔

2-کتاب ’’آسان عملیات و تعویذات ‘‘کے صفحہ نمبر 238 پر ایک نقش اور لکھا ہے جو کالے کپڑے میں موم جامہ کرکےگھر میں لٹکانا ہے۔۔

3۔اسی طرح’’ حکیم الامت‘‘ نےاپنی کتاب’’ اعمال قرآنی‘‘ میں اس طرح کے بے بہا عملیات کو ذکر کیا ہے۔ اس طرح ’’گنجینئہ اسرار‘‘ میں ’’شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کاشمری رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے بے شمار اس طرح کے عملیات کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی طرح’ ’علامہ شیخ علی بونی رحمۃ اللہ علیہ ‘‘اپنی کتاب ’’شمش المعارف ‘‘میں اس قسم کے بہت سارے عملیات کا ذکر کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ سارا کچھ شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔ اسی طرح علامہ’’غزالی رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کی کتاب میں اس طرح کے عملیات بے بہا ملتے ہیں اور ہمارے بہت سے محدثین اور مفسرین اور عاملین حضرات کی کتابوں میں یہ عام دستور ہے اور اس طرح کے عملیات بہت زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔

درج بالا باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے عملیات ہمارے اکابرینؒ کی زندگی میں بے بہا ملتے ہیں۔جن کو انھوں نے مخلوق خدا کو راحت پہنچانے کے لیے استعمال کیا ۔عبقری بھی دن رات مخلوق خدا کے مسائل، دُکھ اور پریشانیوں کو حل کرنے میں دن رات لگا ہے، کبھی کس انداز میں اور کبھی کس انداز میں،یہ سب اسباب ہی ہیں، مسب الاسباب اللہ جل شانہٗ کی ہی ذات ہے۔

اللہ مجھے اور آپ کو اکابرین ؒ کی طرز پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

اور اکابرینؒ کی صحیح فہیم اور فراصت عطا فرمائے۔ آمین!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025