تسبیح خانہ کے من گھڑت عقیدہ کا بھانڈہ پھوڑنے والی تحریر! کہیں یہ آپ کو نئے شرک میں مبتلا نہ کردے !

تسبیح خانہ کے منبر سے بارہا اس بات کی تلقین اور تعلیم دی گئی کہ جب کبھی بھی روضہ اقدس ﷺ پر حاضری ہوتو مجرمانہ حاضری ہو، نظریں جھکی ہوں، جسم پر کپکپی طاری ہو اور جب سلام پڑھا جائے تونہایت ادب کے ساتھ پڑھا جائے آپ ﷺ اس سلام کوخود سنتے بھی ہیں اور جواب مبارک ارشاد فرماتے بھی ہیں’’ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے ۔۔۔! ‘‘ اور یہ سلام و جواب تمام مکاتب فکر کے اکابرؒ کی تعلیمات میں مسلمہ ہے ۔

سید الرسل و خاتم الانبیاء، سیدنا ومولانا محمد ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں حیات ہیں اور آپ درود وسلام پڑھنے والوں کے درود و سلام کا جواب دیتے ہیں، یہ بات مسلم ہے اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

(1) روضہ اقدس ﷺسے کسی کے سلام کا بلند آواز سے جواب دیا جائے تو یہ ممکن ہے بلکہ اس قسم کے ایک نہیں کئی واقعات موجود ہیں، جن کو اہلِ علم نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے، سرِ دست اس سلسلے میں سید احمد رفاعی رحمہ اللہ کا مشہور واقعہ ذکر ہے جو کہ مشہور صوفی بزرگ ہیں، ان کا واقعہ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الحاوی للفتاوی‘‘ میں نقل کیا ہے :

سید احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555 ھ میں حج سے فارغ ہوکر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبرِ اطہر کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ دو شعر پڑھے:

’’دوری کی حالت میں، میں اپنی روح کو خدمتِ اقدس میں بھیجا کرتا تھا، وہ میری نائب بن کر آستانہ مبارک چومتی تھی ، اب جسموں کی حاضری کی باری آئی ہے، اپنا دست مبارک عطا کیجیے، تاکہ میرے ہونٹ اس کو چومیں۔‘‘

’’اس پر قبر شریف سے دستِ مبارک نکلا اور انہوں نے اس کو چوما۔‘‘

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے فضائل حج میں ’’البنیان المشید‘‘ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس وقت تقریباً نوے ہزار کا مجمع مسجد نبوی میں تھا، جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور حضور ﷺ کے دستِ مبارک کی زیارت کی، جن میں حضرت محبوبِ سبحانی قطبِ ربانی شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا نام نامی بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

(2) سید نور الدین ایجی شریف عفیف الدین رحمہ اللہ کے والد ماجد کے متعلق لکھا ہے کہ جب وہ روضہ مقدسہﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا "السلام علیک أیها النبي ورحمة الله وبرکاته” تو سارے مجمع نے جو وہاں حاضر تھا سناکہ قبر شریف سے’’وعلیک السلام یا ولدي‘‘ کا جواب ملا۔

(3) شیخ ابو نصر عبد الواحد بن عبد الملک بن محمد بن ابی سعد الصوفی الکرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعد زیارت کے لیے حاضر ہوا، حجرہ شریفہ کے پاس بیٹھا تھا کہ شیخ ابوبکر دیار بِکری رحمہ اللہ تشریف لائے اور مواجہ شریفہﷺ کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کیا ’’السلام علیک یا رسول الله‘‘ تو میں نے حجرہ شریفہ کے اندر سے یہ آواز سنی’’وعلیک السلام یا أبابکر‘‘اور ان سب لوگوں نے جو اس وقت حاضر تھے اس کو سنا۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ’’فضائل حج‘‘ اور ’’فضائل درود شریف‘‘ میں اس طرح کے کئی واقعات کئی کتابوں سے نقل کیے ہیں، لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا پیش آجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

(4) حضرت شیخ الحدیث فرماتے ہیں کہ میں نے ملا جامی رحمہ اللہ کی کتاب ’’یوسف زلیخا ‘‘ اپنی دس سال کی عمر میں والد صاحب سے پڑھی اور ان ہی سے یہ قصہ سنا کہ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ یہ نعت (جو یوسف زلیخا نامی کتاب کے شروع میں ہے) لکھنے کے بعد جب ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے ان کا ارادہ یہ تھا کہ روضہ اقدس کے پاس کھڑے ہوکراس نظم کو پڑھیں گے، چناچہ جب حج کے بعد مدینہ منورہ حاضری کا ارادہ کیا تو امیر مکہ نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کو (یعنی جامی کو ) مدینہ نہ آنے دی.

امیرِ مکہ نےممانعت کردی، مگر ان پر جذب وشوق اس قدر غالب تھا کہ یہ چھپ کر مدینہ منورہ کی طرف چل دیے، امیرِ مکہ نے دوبارہ خواب دیکھا، حضور ﷺنے فرمایا وہ آرہا ہے اس کو یہاں نہ آنے دو، امیرِ مکہ نے آدمی دوڑائے اور ان کو راستہ سے پکڑوا کر بلایا ، ان پر سختی کی اور جیل خانہ میں ڈال دیا، اس پر امیرِ مکہ کو تیسری مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ کی زیارت ہوئی ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ کوئی مجرم نہیں ہے، بلکہ اس نے کچھ اشعار کہے ہیں، جن کو یہاں آکر میری قبر پر کھڑے ہوکر پڑھنے کا ارادہ کررہا ہے، اگر ایسا ہوا تو قبر سے مصافحہ کے لیے ہاتھ نکلے گا جس میں فتنہ ہوگا، اس پر ان کو جیل سے نکالا گیا اور بہت اعزاز واکرام کیا گیا۔

(5) ’’الجمعیۃ، شیخ الاسلام نمبر‘‘ میں اس طرح مذکور ہے : مشہور عالم اور بزرگ مولانا مشتاق احمد انبیٹھوی مرحوم نے بیان فرمایا کہ ایک بار زیارتِ بیت اﷲ سے فراغت کے بعد دربارِ رسالت میں حاضری ہوئی تو مدینہ طیبہ کے داورانِ قیام مشائخِ وقت سے یہ تذکرہ سناکہ اِمسال روضہ اطہر سے عجیب کرامت کا ظہور ہوا ہے، ایک ہندی نوجوان نے جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر صلاۃ وسلام پڑھا تو دربارِ رسالت سے ”وعلیکم السلام یا ولدي“ کے پیارے الفاظ سے اس کو جواب ملا۔ اس واقعہ کو سن کر قلب پر ایک خاص اثر ہوا۔ مزید خوشی کا سبب یہ بھی تھا کہ یہ سعادت ہندی نوجوان کو نصیب ہوئی ہے۔ دل تڑپ اٹھا اور اس ہندی نوجوان کی جستجو شروع کی؛ تاکہ اس محبوبِ بارگاہِ رسالت کی زیارت سے مشرف ہوسکوں اور خود اس واقعہ کی بھی تصدیق کرلوں۔ تحقیق کے بعد پتا چلا کہ وہ ہندی نوجوان سید حبیب ﷲ مہاجر مدنی رحمہ ﷲ کا فرزندِ ارجمند ہے۔ گھر پہنچا ملاقات کی، تنہائی پاکر اپنی طلب وجستجو کا راز بتایا، ابتدا میں خاموشی اختیار کی، لیکن اصرار کے بعد کہا: ”بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے۔“ یہ نوجوان تھے مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ‘‘۔

(6) حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے درسِ ختمِ بخاری شریف جامع مسجد سورتی، رنگون، برما میں حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا : "میں نے پڑھا ہے اور اپنے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ ایک مرتبہ آپ روضہٴ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوئے، سلام پڑھا ’’الصلاة والسلام علیک یا رسول الله‘‘۔ روضہٴ اقدس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا:”وعلیک السلام یاولدي۔“

اللّٰهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه! فقط واللہ اعلم

(7) حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر مبارک سے ہاتھ نکال کر ان سے مصافحہ فرمایا تھا یہ واقعہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے الحاوی للفتاوی میں نقل کیا ہے اور اسی کے حوالے سے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے فضائل اعمال (2/130:ادارہ اشاعت دینیات پرائیوٹ لمیٹڈ) میں حج کے فضائل کے تحت اس واقعے کا ذکر کیا ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم:

تسبیح خانہ اللہ کے فضل و کرم سے سارے عالم میں قرآن وسنت کی تعلیمات پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے اللہ کریم اخلاص اور قبولیت عطا فرمائے ۔آمین!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025