سالہاسال سے تسبیح خانہ میںایام بیض (چاند کی 13،14،15)کو روزے رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے یہ ایک مسنون و مستحب عمل ہے، بڑی فضیلت کا حامل ہے ،اس کی برکت سے زندگی میں بہت خوشحالی اور برکتیں آتی ہیں ، مشکلات حل ہوتی ہیں جس پر بہت ہی زیادہ لوگوں کے مشاہدا ت ہیں اور کیوں نہ ہوںکہ احادیث مبارکہ میں ایام بیض کی بہت فضلیت آئی ملاحظہ فرمائیں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ تسبیح خانہ کا ہر عمل قرآن وسنت تعلیمات اکابرؒ سے جڑا ہے اور اسی وجہ سے یہاں آنے والا شخص رنگا جاتا ہے ۔
(1)۔ ترمذی شریف میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے ہر مہینہ تین روزے رکھے گویاکہ اس نے صوم الدہر یعنی پوری زندگی مسلسل روزے رکھے۔
(سنن الترمذي 3/ 134قال أبو عيسى: هذا حديث حسن صحيح۔صحيح البخاري: طوق النجاة ج3/ص 41)
(2)۔ صحیح ابنِ خزیمہ اور سننِ نسائی میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش کا گوشت لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تناول فرمانا شروع کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی کھانے کا فرمایا، ایک شخص نے عرض کیا کہ میرا روزہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےفرمایا کونسا روزہ؟ توانھوں نے عرض کیا: مہینے کے تین روزے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطورِ ترغیب) ان سے فرمایا کہ: "اگر تم نے روزے رکھنے ہیں تو ایامِ بیض یعنی 13،14اور15 کو رکھا کریں۔
(صحيح ابن خزيمة 2/ 1019)
(3)۔ سننِ نسائی کی ایک دوسری روایت میں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایامِ بیض کے تین دن یعنی 13،14،15تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
(سنن النسائي 4/ 223)
(4)۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ بيان كرتےہيں:مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں: ہر مہینہ میں تین دن روزے۔ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا۔
(صحيح البخاري:1178)
(5)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ نے مجھے فرمايا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔
(صحيح البخاري:1975)
(6)۔رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: كيا ميں تمہيں سينہ كے دھوكہ اور وسوسہ كو ختم كر دينے والى چيز كے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہر ماہ كے تين روزے ركھنا ۔
(صحيح النسائي:2384)
(7) آپ ﷺ نے فرمایاکہ رَمضان کے روزے اور ہر مہینے میں تین دن کے روزے سینے کی خرابی(یعنی جیسے حسد و نفاق) دُور کرتے ہیں ۔
(مُسنَد اِمَام اَحْمَد ج۹ص۳۶حدیث۲۳۱۳۲)
(8 ) آپ ﷺ نےفرمایا کہ جس طرح تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں بچاؤ کے لئے ڈھال ہوتی ہے اسی طرح روزہ جہنَّم سے تمہاری ڈھال ہے اور ہر ماہ تین دن روزے رکھنا بہترین روزے ہیں ۔ ‘‘
(ابنِ خُزَیْمہ ج۳ص۳۰۱حدیث۲۱۲۵)
(9) آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس سے ہوسکے ہر مہینے میں تین روزے رکھے کہ ہر روزہ دس گناہ مٹاتا اور گناہ سے ایسا پاک کردیتا ہے جیسا پانی کپڑے کو۔
(مُعْجَم کَبِیْر ج۲۵ص۳۵حدیث۶۰)
(10)۔آپ ﷺ نے ابوذررضی اللہ سے فرمایا:ابوذر!جب تم ہرماہ کے تین دن کے صیام رکھو تو 13،14،15 تاریخ کو رکھو۔
(صحيح الترمذي:761)
(11)۔آپ ﷺ چار چیزیں نہیں چھوڑتے تھے، عاشور۱ کا روزہ اور عشرئہ ذُوالْحِجَّہ کے روزے اور ہر مہینے میں تین۳ دن کے روزے اورفجر(کے فرض ) سے پہلے دو۲ رَکْعَتَیں (یعنی دوسُنَّتیں ) ۔
(نَسَائی ص۳۹۵ حدیث۲۴۱۳)
علمائے کرام کے اقوال
(1) ۔شیخ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرو سفر میں ایامِ بیض (13۔14۔15) كا روزہ نہیں چھوڑا كرتے تھے۔
( نَسَائی ص۳۸۶ حدیث۲۳۴۲السلسلة الصحيحة:580)
(2)۔ہر مَدَنی ماہ (یعنی سن ہجری کے مہینے) میں کم ازکم تین۳ روزے ہر اسلامی بھائی اور اسلامی بہن کو رکھ ہی لینے چاہئیں ۔ اس کے بے شمار دُنیوی اور اُخروِی فوائدہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ یہ روزے ’’ ایامِ بِیْض ‘‘ یعنی چاند کی 13، 14 اور 15 تاریخ کو رکھے جا ئیں ۔
(فیضان ماہ رمضان ص149،مجلس دعوت اسلامی )
(3)۔شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایام بیض کے روزے رکھنا مستحب ہےیعنی ا ن روزوں کی تاکید آئی ہے کوئی انہیں رکھے تو بڑا اجر پائے گا۔ تین روزوں کا اجر زمانے بھرروزہ رکھنےکے برابر ہے ۔
(مجلس تحقیق الاسلامی )
(4)۔ایام بیض اور دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ مسنون ومستحب ہے، حسب ہمت وتوفیق اگر کوئی ان سب روزوں کا یا ان میں سے بعض کا اہتمام کرتا ہے تو فضیلت کی بات ہے۔
(فتویٰ دار العلوم انڈیا 160199)
(5)ہر مہینے ایام بیض کے تین روزے رکھنا ، مستحب ہے اور بہت فضیلت کا حامل ہے ۔
(دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی،فتویٰ نمبر :62619)
(6)افضل یہ ہے کہ ہر مہینے کے تین روزے ایام بیض یعنی 13،14،15 تاریخ کو رکھے جائیں۔
(درسِ ترمذی: 2/602″)
(7) ذی الحجہ میں چونکہ تیرہ تاریخ کو (ایامِ تشریق میں داخل ہونے کی وجہ سے) روزہ رکھنا شرعاً ممنوع ہے، لہٰذا ذی الحجہ میں تیرہ تاریخ
کی جگہ سولہ تاریخ کو یا بعد میں کسی تاریخ کو روزہ رکھ لیا کریں۔
(امداد الفتاوی: 2/133″)
(8 ) ایامِ بیض (قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ) کے روزے مستحب ہیں، ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے۔اگر کسی شخص کا مستقل یہ روزے رکھنے کا معمول ہے تو یہ انتہائی سعادت کی بات ہے، البتہ اگر کبھی اس سے یہ روزے رہ جائیں تو قضا یا گناہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اگر کسی عذر (بیماری یا سفر شرعی) کی وجہ سے رہ جائیں تو احادیثِ مقدسہ کی رو سے ان ایام کے روزوں کا بھی اجر ملے گا۔
(فتوی نمبر : 144004200610دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری )
یہ مسنون اعمال ہیں جس کی تسبیح خانہ میں پابندی کرائی جاتی ہے ترغیب دی جاتی ہے اور اللہ کے فضل سے یہاں آنے والوں کی جھولیا ں بھر جاتی ہیں ۔
