تسبیح خانہ میں نماز فجر کے بعد سورۂ یٰسین کیوں پڑھائی جاتی ہے؟ کیا یہ بدعت ہے ؟ یا من گھڑت وظیفہ آئیے جانتے ہیں!

تسبیح خانہ جب سے بنا ہے اس وقت سے یہاں معمول ہے کہ روزانہ فجر کی نما ز کے بعد یہاں سورۂ یٰسٓ پڑھی جاتی ہے اورتمام لوگ باخوشی اس عمل میں شریک ہونے والے کہتے ہیں کہ اس عمل کی برکت سے ہمارے دنیا کے بڑے بڑے کام نہایت ہی آسانی سے پورے ہوتے ہیں آئیے تسبیح خانہ میں کیے جانے والے اس عمل کو علمی دلائل کی روشنی میں پرکھتے ہیں:

(1) صبح کے وقتسورۂ یٰسٓ کی تلاوت کو بدعت نہیں کہا جاسکتا اس وقت پڑھنے کو بدعت بتلانا جہالت اور زیادتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دن کے شروع حصے میںسورۂ یٰسٓ پڑھی اس کی ضروریات پوری کی جائیں گی“۔

من قرأ یٰسٓ في صدر النہار قضیت حوائجہ

(2)۔اگر کوئی روزانہ نماز فجر کے بعد سورۂ یٰسٓ کی تلاوت کا معمول رکھتا ہے اور اپنے طور پر اس عمل کو جاری رکھتا ہے تو اس میں مضائقہ نہیں، یہ بدعت نہیں بلکہ یہ مستحسن ہے۔

(3)۔صبح کے وقت سورۂ یٰسٓ کی تلاوت کرنا اور اس کی خیر و برکات کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے۔

مرقاة المفاتيح میں ہے:سنن دارمی کے حوالے سے منقول ہے:جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن ابي رباح رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے، فرمایا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جس شخص نے دن کے شروع میںسورۂ یٰسٓ پڑھی تو اس کی حاجات ( دینی دنیوی یا اخروی یا مطلقاً تمام ضرورتیں ) پوری کی جائیں گی ۔

اگرچہ حدیث مبارک میں نماز فجر کے بعد تلاوت سورۂ یٰسٓ کی صراحت نہیں ہے، لیکن صبح کے وقت کا ذکر ہے، لہذا اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے بعدسورۂ یٰسٓ کی تلاوت کر لے تو اسے بھی مذکورہ بالا فضیلت حاصل ہو جائے گی۔

(4)۔حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے رایت ہے کہ جس نے دن کے شروع میںسورۂ یٰسٓ پڑھی تو اسے دنیاوی اور اخروی کام شام تک آسانی دی جائے گی اور اگر شام کو پڑھے تو صبح تک آسانی دی جائے گی ۔

(5)۔فجر کے بعد اگر کسی جگہ سورۂ یٰسٓ پڑھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دعا کی جاتی ہے تو یہ عمل شرعاً درست ہے۔

جی ہاں تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے! وہ اعمال جو قرآن وسنت اور تعلیمات اکابر ؒمیں منقول ہیں !

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025