جنات کے پیدائشی دوست ” حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم ” کی جنات سے ملاقاتیں اور ان سے بات چیت ایسی کون سی نئی چیز ہے جو عقل انسانی میں نہ سما سکے؟ ہر دور کے اولیائے عظام میں ایسی ہستیاں گزری ہیں، جنہیں اللہ جل شانہ نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات کا بھی مخدوم بنایا۔ ہماری آج کی نشست میں ایک ایسے ہی درویش حضرت صوفی محمد عبد اللہ ویلی کا واقعہ قارئین کے پیش خدمت ہے جو جماعت اہل حدیث کے مشہور بزرگ اور جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن (ضلع فیصل آباد ) کے بانی ہیں۔ ان کے متعلق مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی مرحوم لکھتے ہیں کہ :
ملتان سے میرے دوست محمد یاسین شاد نے بذریعہ مکتوب اطلاع دی کہ ایک مرتبہ صوفی محمد عبد اللہ صاحب الہ ضلع خانیوال کے ایک قصبے عبد الحکیم تشریف لے گئے وہاں ان کے عقیدت مندوں میں ایک عالم دین حافظ محمد ایوب فیروز پوری طی علیہ اقامت گزیں تھے، صوفی صاحب الیہ کا قیام انہی کے ہاں تھا۔ ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ فلاں گھر میں ایک عورت کو جن کی شکایت ہے اور وہ لوگ سخت پریشان ہیں، دعا فرمائیے کہ یہ شکایت رفع ہو جائے اور عورت کو اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمائے وہ گھر صوفی صاحب روی علیہ کی قیام گاہ سے کچھ فاصلے پر تھا۔ صوفی صاحب رویشعلیہ نے اپنی قیام گاہ پر بیٹھے بیٹھے کچھ پڑھنا شروع کیا تو جن حاضر ہو گیا۔ مریضہ اس جگہ سے دور تھی لیکن صوفی صاحب ریشم یہ اس کو پریشان کرنے والے جن سے ہم کلام تھے اور اس پر کچھ سختی بھی کر رہے تھے۔ یہ سارا معاملہ لوگوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ بالآخر جن چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے مریضہ کو صحت عطا فرمادی۔
( بحوالہ کتاب: تذکرہ صوفی محمد عبد اللہ درانی ، صفحہ 381 ناشر: مکتبہ سلفیہ شیش محل روڈ لاہور )
