انسانی جسم میں جنات کے داخل ہو جانے پر امام ابن تیمیہ کا فتوی


علامہ ابن تیمیه نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے : اہل السنہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنات انسانوں کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں ان کا حال اس شخص کی طرح ہوتا ہے، جنہیں چھو کر شیطان نے باؤلا کر دیا ہو.

رسول اللہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا : شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے. امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے امام عبد اللہ بن احمد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جن ، انسان کے جسم میں داخل نہیں ہو سکتا ؟ امام احمد بن حنبل نے فرمایا: بیٹاوہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ آسیب زدہ شخص کی زبان سے چن ہی بات کرتا ہے ۔ اس پر امام ابن تیمیہ یہ کہتے ہیں کہ چن نہ صرف بولتا ہے بلکہ انسان پر سواری کرتا ہے جس کے نتیجے میں آسیب زدہ شخص بھاری بھاری مشینوں کو آسانی سے اٹھا سکتا ہے جو شخص کسی آسیب زدہ انسان کا چشم دید گواہ ہو وہ دیکھتا ہے کہ اس وقت اس انسان کی زبان سے کوئی اور بول رہا ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: ائمہ مسلمین میں سے کوئی بھی اس بات کا منکر نہیں کہ جنات انسانوں کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ جو شخص اس بات کا انکار کرنا ہے اور کہتا ہے کہ شریعت سے اس کا ثبوت نہیں بنتا اور شریعت پر تہمت لگاتا ہے۔

محترم جو یہ کہتے ہیں کہ روحانی علاج صرف ایک ٹوپی ڈرامہ ہے یقت میں جن نہیں ہوتا ، صرف حامل لوگوں کو نظر آتا ہے

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025