قسط نمبر 75
قیامت کی پیاس سے بچنے کا عمل
اکابر پر اعتماد
تفسیر جلالین کے مصنف امام جلال الدین سیوطی رحمت اللہ علیہ نے لکھا ہے: شیخ عبداللہ بن حسین رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ہم طرطوس میں گئے تو پتہ چلا کہ یہاں ایک عورت ہے، جس نے ان جنات کو دیکھا ہوا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں وفد کی شکل میں گئے تھے۔ چنانچہ میں اس بوڑھی عورت کے پاس گیا تو وہ سر کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا : تیرا نام کیا ہے؟ کہنے لگی : منوس! میں نے پوچھا: کیا تم نے جنات کو دیکھا ہے؟ کہنے لگی : ہاں میں نے ان میں سے سمحج
جن کو دیکھا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام بدل کر عبد اللہ رکھا تھا۔ پھر سمحج یعنی صحابی جن عبداللہ نے میرے سامنے ایک حدیث بیان کی کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہار شخص کے پاس سورہ یسین پڑھی جائے تو وہ موت کے وقت سیراب ہو کر مرتا ہے اور اپنی قبر میں بھی سیراب ہوگا اور یوم قیامت بھی سیراب ہوگا ( یعنی ان تینوں مقامات پر اسے پیاس نہیں لگے گی ) بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان اردو ترجمہ : جنوں کے حالات ، صفحہ 160 مصنف: امام جلال الدین سیوطی ناشر: مکتبہ حنفیہ گنج بخش روڈ لاہور قارئین ! علامہ جلال الدین کا اسم گرامی فقہاء و محدثین کی لسٹ میں نہایت معتبر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں عام انسانوں کے ساتھ جنات کی ملاقات کے واقعات اتنے زیادہ بیان کیے ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد ہر شخص پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے جنوں کے واقعات فی الحقیقت درست ہیں ۔ اگر ہم ان واقعات کا انکار یا ان پر کوئی اعتراض کرتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں ہم اپنے اکابر کی زندگی میں سے ایک روشن پہلو کے منکر ہورہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے اکابر کی ترتیب کے مطابق قرآن وسنت کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب ہو ۔ آمین
