قسط نمبر 83
سلسلہ نقشبندیہ کے ساتھ جنات کا تعلق
اکابر پر اعتماد
علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ حضرت تاج الدین بن زکریا سلطان نقشبندی رحمة الله عليه دوران سفر ایک شہر میں پہنچے اپنے ساتھیوں سمیت مراقبہ کیا، اسی دوران محفل میں ایک نا واقف شخص آگیا، قریب آکر اس نے حضرت رحمة الله عليه کا ہاتھ چوما اور کہا: میں یہاں رہنے والے جنات میں سے ایک جن ہوں، میں نے آپ کا طریقہ دیکھا تو مجھے پسند آیا لہذا میں بھی اس سلسلے کا حصول چاہتا ہوں ۔ آپ رحمة الله عليه نے اسے سلسلہ نقشبندیہ کے اشغال کی تلقین فرمائی ۔ اس کے بعد وہ آپ کے پاس اکثر آتا رہتا وہ صرف آپرحمة الله عليه کو نظر آتا کوئی اور اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے آپ رحمة الله عليه سے عرض کیا کہ جب کبھی مجھے بلانا چاہیں تو میرا نام کاغذ پر لکھ کر اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیں، میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا ۔ اسی طرح آپ رحمة الله عليه نے جب کشمیر کا سفر اختیار فرمایا تو وہاں بھی ایک جن آپ رحمة الله عليه کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ رحمة الله عليه سے درس طریقت لیا۔
بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیا صفحہ 35 جمال الاولیاء تلخیص : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی
ترجمہ مفتی جمیل احمد تھانوی ، ناشر: ادارہ اسلامیات انار کلی لاہور
قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم ” جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے واقعات سو فیصد حق ہیں۔ اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی، جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا ، مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔
