سلسلہ نقشبندیہ کے ساتھ جنات کا تعلق

علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت تاج الدین بن زکریا سلطان نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ دورانِ سفر ایک شہر میں پہنچے، اپنے ساتھیوں سمیت مراقبہ کیا، اسی دوران محفل میں ایک ناواقف شخص آ گیا، قریب آ کر اس نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ہاتھ چوما اور کہا: میں یہاں رہنے والے جنات میں سے ایک جن ہوں، میں نے آپ کا طریقہ دیکھا تو مجھے پسند آیا، لہٰذا میں بھی اس سلسلے کا حصول چاہتا ہوں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سلسلۂ نقشبندیہ کے اشغال کی تلقین فرمائی۔ اس کے بعد وہ آپ کے پاس اکثر آتا رہتا، وہ صرف آپ رحمۃ اللہ علیہ کو نظر آتا، کوئی اور اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ جب کبھی مجھے بلانا چاہیں تو میرا نام کاغذ پر لکھ کر اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیں، میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا۔ اسی طرح آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جب کشمیر کا سفر اختیار فرمایا تو وہاں بھی ایک جن آپ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ رحمۃ اللہ علیہ سے درسِ طریقت لیا۔

قارئین! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ میں بیان کیے جانے والے واقعات سو فیصد حق ہیں۔ اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گی، جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا، مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی، جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026