عبقری میں جا بجا یہ بات پڑھنے کو ملتی ہے کہ وظائف اور عملیات سے ہماری دنیا کی پریشانیاں حل ہوتی ہیں، پٹرول کی کمی پوری ہو جاتی ہے، بجلی کے بل میں کمی واقع ہو جاتی ہے غیب سے رزق کا سامان ہو جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ ۔ اس قسم کے واقعات آج کے دور میں ہماری عقلی سطح سے دور ہیں ۔ در اصل بات یہ ہے کہ یہ عملیات اور وظائف اپنے رب سے بھکاری بن کر مانگنے کا ایک بہانا ہے عطافر مانے والی ذات تو اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، جو اپنے گناہ گار بندوں کو بھی تسلی دے رہے ہیں کہ مجھ سے نا امید نہ ہونا ۔۔۔ رہی یہ بات کہ عبقری میں اعمال کے ذریعے رزق کے غیبی خزانے ملنا کیسے ممکن ہیں؟ یہ بات دراصل اسلامی لٹریچر سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ کو عبقری میں ذکر کردہ وظائف سے غیبی رزق ملنے کا ثبوت چاہیے تو محدث اعظم ،مفسر کبیر، شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور کتاب ترغیب المسلمین دیکھ لیں، جس کا ترجمہ رزق حلال و غیبی معاش اولیاء کے نام سے بآسانی مل جاتا ہے۔ تمام حضرات صرف ایک مرتبہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں ۔ مثلاً یہاں ایک واقعہ نقل کرتا ہوں۔
شیخ ابو عمران واسطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ مکہ مکرمہ سے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کی غرض سے نکلا۔ راستہ میں اتنی شدید پیاس لگی کہ میں اپنی زندگی سے نا امید ہو گیا اور کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر موت کا انتظار کرنے لگا۔ اتنے میں سبز رنگ کے گھوڑے پر سبز رنگ کا لباس پہنے ایک شاہسوار آیا اس کے ہاتھ میں پیالہ تھا، جسے میں نے خوب پیٹ بھر کر پیا مگر وہ پانی کم نہ ہوا۔ پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا : کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا مدینہ منورہ جارہا ہوں تو وہ کہنے لگے : روضہ اقدس صلى الله عليه وسلم اور صاحبین رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ( جنتی فرشتوں کے سردار ) رضوان کا سلام عرض کر دینا۔
( بحوالہ کتاب : رزق حلال و غیبی معاشی اولیاء صفحه 113 ناشر : اداره تصنیف و ادب برہان پورہ نزد واجتماع گاہ رائے ونڈ)
لہذا قارئین عبقری میں رزق کے غیبی اسباب پیدا ہونے کے واقعات کا ذکر من گھڑت نہیں، بلکہ توحید خالص پر اعتماد ہی کا نتیجہ ہے۔
