اسلاف کی ارواح سے ملاقاتیں

قسط نمبر 88

اسلاف کی ارواح سے ملاقاتیں

اکابر پر اعتماد

مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں: قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمة الله علیہ جب کبھی لاہور تشریف لاتے تو مال روڈ پر حیات برادرز کے ہاں قیام فرمایا کرتے تھے۔ میاں فضل کریم بن حاجی حیات محمد کا بیان ہے کہ جس مکان پر آپ رحمة الله علیہ ٹھہرا کرتے تھے اس کے قریب ہی ایک خانقاہ تھی، جو اجڑی ہوئی تھی ۔ ایک دن آپ رحمة الله عليہ نے مجھ سے پوچھا : کیا یہاں کوئی قبر ہے ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ رحمة الله عليہ نے فرمایا : آج رات خواب میں ہمیں وہ بزرگ ملے اور کہا کہ قاضی جی! آپ اتنی بار یہاں تشریف لائے مگر ہمیں ایک بار بھی نہیں ملے۔ پھر فرمایا : وہ بہت نیک اور صالح آدمی تھے فلاں جگہ کے رہنے والے تھے ادھر سے گزر رہے تھے کہ انتقال ہو گیا۔ میاں فضل کریم کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب میں نے اس کی تحقیق کی تو وہ باتیں ویسی ہی ثابت ہوئیں، جو قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے بیان فرمائی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کا نام اور پتہ بھی قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے بالکل صحیح بتادیا تھا

( بحوالہ کتاب: تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمة الله عليہ صفحه ۴۵۸ ، ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازار لاہور ) صوفی حبیب الرحمن رحمة الله عليہ کا بیان ہے کہ ۱۹۱۰ء میں جب حضرت ضیاء معصوم صاحب رحمة الله عليہ (مرشد امیر حبیب اللہ خان بادشاہ کابل ) پٹیالہ میں تشریف لائے تو انہوں نے سر ہند جانے کے لیے قاضی صاحب رحمة الله عليہ کو اپنے ساتھ لے لیا۔حضرت ضیاء معصوم رحمة الله عليہ جب حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليہ کے مزار پر مراقبہ کے لیے بیٹھے تو قاضی صاحب رحمة الله عليہ نے سوچا کہ شاید ان بزرگوں نے آپس میں کوئی راز کی بات کہنی ہو لہذا ان سے الگ ہو جانا چاہیے۔ ابھی آپ اپنے جی میں یہ خیال لے کر اٹھے ہی تھے کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمة الله عليہ نے آپ کو ہاتھ سے پکڑ کر فرمایا :سلیمان خیال لے کر بیٹھے رہو۔ ہم کوئی راز میں نہیں رکھنا چاہتے ۔ صوفی صاحب کا بیان ہے کہ قاضی صاحب نے بعض دوستوں سے اس بات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ واقعہ مراقبے یا مکاشفے کا نہیں، بلکہ بیداری کا ہے (بحوالہ کتاب: سوانح عمری ص 90 ، مصنف : صوفی احمد الدین حنیف، ناشر: محمدی اکیڈیمی ناشران و تاجران کتب محلہ توحید گنج منڈی بہاؤالدین )

جو لوگ ماہنامہ عبقری کے ہر دلعزیز سلسلہ وار کالم ” جنات کے پیدائشی دوست کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ انوکھی باتیں صرف خود ساختہ کہانیاں ہیں انہیں ایک مرتبہ اپنے اکابر و اسلاف کی سوانح حیات پر نظر ڈالنی چاہئے اور اعتراض کرنے کی بجائے اعتراف کرنا چاہئے کہ اسلاف بزرگان دین میں ایسی کئی شخصیات ہر دور میں موجود رہی ہیں، جن پر کائنات کالا ہوتی اور ملکوتی نظام کھلا ہوا تھا۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025