اکابر کی بابرکت انگوٹھیاں

قسط نمبر 92
اکابر پر اعتماد
اکابر کی بابرکت انگوٹھیاں

بعض اوقات عبقری میں کچھ انگوٹھی اور چھلے وغیرہ پر کچھ عبارت لکھنے کے عمل کا ذکر ہوتا ہے بہت سے دوست اکابر و اسلاف کی زندگی سے نا آشنائی کے سبب سے کہتے ہیں کہ یہ سب بیکار باتیں ہیں ایسے حضرات کیلئے بجائے اپنی طرف سے کچھ کہنے کے اکابر کا ایک فتویٰ لکھا جاتا ہے جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ عبقری میں ایک بھی چیز اپنی طرف سے نہیں بلکہ اکا بر کی زندگی کا سو فیصد عکس پیش کیا جاتا ہے۔

(1) آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک انگوٹھی چاندی کی بنوائی اور اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا۔ (بحوالہ صحیح بخاری ص (873) – (2) حضرت حذیفہ رضى الله عنہ کی انگوٹھی پر الحمد للہ لکھا تھا۔ (3) حضرت مسروق ” کی انگوٹھی پر بسم اللہ لکھی تھی۔ (4) حضرت جعفر رضى الله عنہ کی انگوٹھی پر العزت اللہ لکھا تھا۔ (5) ابراہیم نخعی کی انگوٹھی پر یااللہ لکھا ہوا تھا (فتح الباری ج 10 ص 328 ) (6) حضرت صدیق اکبر رضى الله عنہ کی انگوٹھی پر نعم القادر اللہ لکھا تھا ( شرح طحاوی ص 354) (7) حضرت عبداللہ بن عمر بن رضى الله عنہ اور قاسم بن محمد رحمة الله عليه کی انگوٹھی پر نعم القادر اللہ لکھا تھا۔ (8) امام ابن سیرین فرماتے ہیں انگوٹھیوں پر حسبی اللہ لکھا ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔ ( جمع الوسائل ص 184) (9) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر کفی بالموت واعظا لکھا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر لتصر بن اولتند من لکھا تھا۔ (10) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی پر الملک اللہ لکھا تھا۔ (11) حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی انگوٹھی پر قل الخير والا فاسكت لکھا تھا۔ (12) امام ابو یوسف کی انگوٹھی پر من عمل برابه فقد ندم لکھا تھا ۔ (13) امام محمد کی انگوٹھی پر من صبر ظفر لکھا تھا۔ (14) حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی انگوٹھی پر من صبر ظفر لکھا تھا اور دوسری پر از گروه اولیاء اشرف علی لکھا تھا۔

ملا علی قاریرحمة الله علیہ نے لکھا ہے کہ انگوٹھی پر اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام کندہ کرانا اور پہننا جائز ہے اس سے معلوم ہوا کہ انگوٹھیوں پر جو تعویذات لکھے ہوتے ہیں ( مقطعات قرآنیہ یا دیگر کلمات و دعائیں ) ان کا پہننا درست ہے اور ان کو ممنوع قرار دینا مطلقاً درست نہیں نہ اس میں کوئی قباحت ہے البتہ بے ادبی سے بچانا لازم ہے ۔ (شمائل کبری ج 2 ص 152 بحوالہ کتاب بکھرے موتی حصہ 5 ص 479 ، مصنف : حضرت مولا نا محمد یونس پالنپوری حفظہ اللہ، ناشر بلسم پبلی کیشنز، لاہور )

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025