قسط نمبر 107
اندھیروں میں اللہ تعالی سے دل لگانے کا فائدہ
اکابر پر اعتماد
حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سری سقطی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پر نکلا تو ایک پہاڑ کے دامن میں اندھیری رات نے گھیر لیا۔ وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا۔ اچانک کسی نے آواز دی کہ: اندھیروں میں دل نہیں پگھلنے چاہئیں بلکہ محبوب ( اللہ تعالیٰ) کے حاصل نہ ہونے کے خوف سے نفوس کو پگھلنا چاہیے یہ سن کر میں گھبرا گیا۔ اسی وقت آواز آئی کہ ہم اللہ پر ایمان رکھنے والے مومن جنات ہیں۔ یہاں اور بھی بہت مومن جنات موجود ہیں اور ان جنات کے پاس مجھ سے بھی زیادہ ایمان ہے۔ دوسرے جن نے مجھے نصیحت کی : خدا کا غیر اس وقت نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے۔ تیسرے جن نے مجھے کہا: جو اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مانوس رہتا ہے، اس کو کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا ۔ شیخ فرماتے ہیں: میں نے ان جنات سے کہا : مجھے کوئی نصیحت کرو۔ وہ تمام جنات کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والے دلوں کو ہی جلا بخشتا ہے، جو غیر خدا کی طمع کرے گا اس نے ایسی جگہ کی لالچ کی جو لالچ کے قابل نہ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں اس کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں۔
صفة الصفوة ابن جوزی بحوالہ کتاب لقط المرجان فی احکام الجان ترجمہ مولانا امداد اللہ انور، ص 305 ناشر : دار المعارف عنایت پور تحصیل جلالپور پیر والا ، ملتان
محترم قارئین! ہمارے اکابر کی جنات سے ملاقاتوں کی طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات بھی سو فیصد حقیقت پر مبنی ہیں۔ اب جو لوگ ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ ایسی باتوں کو صرف عقل کی ترازو میں تولتے ہیں، وہ اپنے اکابر کے واقعات کو کیا کہیں گے۔۔۔!
