بیدار آنکھوں سے حضور کیلئےصَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی زیارت کیسے ہوتی ہے؟

ماہنامہ عبقری میں جب علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں ، جن میں جاگتی آنکھوں سے حضور سرور کونین ﷺ کی یا بعض دیگر انبیاء و صلحاء کی زیارت کا ذکر ہوتا ہے تو کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے اس کا جواب اپنے اکابر کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں۔ علامہ وحید الزمان حیدر آبادی رحمہ اللہ ( مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں : اب بھی بعض خدا کے بندے ایسے موجود ہیں جو آنکھ بند کرتے ہی آپ صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور انہیں حالت بیداری میں آپ صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کا جمال مبارک نظر آجاتا ہے۔ یہ دولت اس کو ملتی ہے جو کثرت سے درود وسلام پڑھنے والا ہوتا ہے.

مولانا جلال الدین احمد امجدی رحمہ اللہ ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں : حضرت سید کبیر احمد رفاعی رحمہ اللہ جب 555 ھ میں حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں پر آپ نے محبت بھرے چند اشعار پڑھے ، جس کے بعد روضہ اقدس صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. سے دست مبارک ظاہر ہوا اور آپ نے اس کو بوسہ دیا۔ اس وقت کئی ہزار لوگوں کا مجمع موجود تھا اور اس میں پیران پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ بھی موجود تھے۔

مرکز اہلسنت کے ابتدائی بزرگ حضرت حاجی محمد عابد قدس سرہ نے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے فرمایا کہ ایک بات کہتا ہوں جسے میری زندگی میں ظاہر نہ کرنا۔ میں نے حالت بیداری میں حرم مکہ میں بعض انبیاء علیہم السلام کی زیارت کی ہے، یہ جو میری موجودہ حالت دیکھتے ہو، یہ انہی انبیاء علیہم السلام کی نظر کا اثر ہے

آیة الله سید عبد الحسین دستغیب شیرازی ( مکتبہ اثناء عشریہ ) لکھتے ہیں : امام جعفر صادق علیہ السلام کو کئی مرتبہ جاگتی آنکھوں سے سرکار دو عالم صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔

محترم قارئین ! اب اگر علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں بیداری کی حالت میں زیارت کے واقعات سامنے آئیں تو اس میں کیا قباحت ہے؟ مولانا سید محمد داؤد غزنوی (صدر جمعیت اہل حدیث پاکستان) فرمایا کرتے تھے: اگر کوئی شخص اتنا نیک ہو جائے کہ اسے کشف ہونے لگے تو تمہیں کیا اعتراض ہے؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025