جس کو شک ہے ، آئے ! میں اسے جنات کے نام رقعہ لکھ کر دیتا ہوں

محترم قارئین! ماہنامہ عبقری کے کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ میں بیان کیے جانے والے تمام حقائق ہمارے اکابر و اسلاف کی کتب میں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ جس شخص کا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہوتا وہ اپنی معلومات کے خلاف ہر بات کو خلافِ شریعت کہہ کر رَد کر دیتا ہے۔ حالانکہ دین عقل کا نام نہیں، نقل کا نام ہے۔ یعنی اکابر سے جو روایات سینہ بہ سینہ نقل ہوتی چلی آ رہی ہوں اور لاکھوں لوگوں کے مشاہدات بھی موجود ہوں تو ان کا انکار کرنا ایسے ہی ہے ، جیسے کوئی نابینا شخص روشن دن کو بھی تاریک رات کہہ دے۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

مولانا محمد الیاس قادری (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت ابومیسرہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک دن قاضی محمد بن علاثہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس مدینہ منورہ کے جنات اور انسان ایک کنویں کا جھگڑا لے کر آئے۔ میں نے ان کی گفتگو سنی۔ قاضی صاحب نے انسانوں کیلئے فیصلہ کیا کہ وہ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اس کنویں سے پانی بھر لیا کریں اور جنات کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غروبِ آفتاب سے لے کر طلوعِ فجر تک پانی لے لیا کریں۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اگر کوئی انسان غروبِ آفتاب کے بعد کنویں سے پانی لیتا تو اسے پتھر مارا جاتا

مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ ایک دن مولانا عبدالمجید سوہدرویؒ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک مخلوق ہے، جن میں اچھے اور برے دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اسی وقت جنات کے وجود پر تذبذب کا اظہار کیا تو آپؒ نے فرمایا: جب قرآن و حدیث میں جنات کا تذکرہ موجود ہے تو انکار کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اگر آپ اپنی آنکھوں سے جنات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ایک رقعہ دے کر فلاں جگہ بھیجتا ہوں، وہاں پانچ ہزار اہل حدیث جنات موجود ہیں، جو آپ کو کھانا بھی کھلائیں گے۔ پھر آپ کو ان کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہے گا

امام جلال الدین سیوطی (مکتبہ حنفیہ) لکھتے ہیں کہ شیخ ابونصر شعرانیؒ نے حماد بن شعیب سے روایت بیان کی کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے جو جنات سے کلام کیا کرتے تھے۔ جنات نے انہیں بتایا کہ انسانوں میں جو شخص سنتِ نبوی ﷺ پر زیادہ کاربند ہو، وہ قومِ جنات پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔

ملا محسن فیض کاشانی (مکتبہ اثناء عشریہ) لکھتے ہیں: حضرت سعید بن عباس رازیؒ سے روایت ہے کہ یمن کے چند لوگ امام مالکؒ کی خدمت میں گئے اور کہا: ہمارے ہاں ایک جن ہماری لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ میں حلال کا خواہش مند ہوں۔ امام مالکؒ نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق دین میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، لیکن اس بات کو پسند بھی نہیں کرتا۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026