قسط نمبر 118
جس کو شک ہے ، آئے ! میں اسے جنات کے نام رقعہ لکھ کر دیتا ہوں
اکابر پر اعتماد
محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست ” میں بیان کیے جانے والے تمام حقائق ہمارے اکابر و اسلاف کی کتب میں صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ جس شخص کا مطالعہ اس موضوع پر نہیں ہوتا وہ اپنی معلومات کے خلاف ہر بات کو خلاف شریعت کہہ کر رد کر دیتا ہے۔ حالانکہ دین عقل کا نام نہیں نقل کا نام ہے۔ یعنی اکابر سے جو روایات سینه در سینه نقل ہوتی چلی آرہی ہوں اور لاکھوں لوگوں کے مشاہدات بھی موجود ہوں تو ان کا انکار کرنا ایسے ہی ہے ، جیسے کوئی نا بینا شخص روشن دن کو بھی تاریک رات کہہ دے ۔ درج ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں :
مولانا محمد الیاس قادری ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ حضرت ابو میسر ہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک دن قاضی محمد بن علا ثہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس مدینہ منورہ کے جنات اور انسان ایک کنویں کا جھگڑالے کر آئے۔ میں نے ان کی گفتگوسنی ۔ قاضی صاحب نے انسانوں کیلئے فیصلہ کیا کہ وہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک اس کنویں سے پانی بھر لیا کریں اور جنات کیلئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک پانی لے لیا کریں۔ چنانچہ اس فیصلے کے بعد اگر کوئی انسان غروب آفتاب کے بعد کنویں سے پانی لیتا تو اسے پتھر مارا جاتا ( بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیر اہل سنت صفحہ 82 ناشر : مکتبۃ المدینہ کراچی)
مولانا حکیم محمد ا در یس فاروقی ( مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ ایک دن مولانا عبد المجید سوہدروی نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ہے، جن میں اچھے اور برے دونوں پائے جاتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نے اسی وقت جنات کے وجود پر تذبذب کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا : جب قرآن وحدیث میں جنات کا تذکرہ موجود ہے تو انکار کرنے کی کیا گنجائش ہے؟ اگر آپ اپنی آنکھوں سے جنات کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو ایک رقعہ دے کر فلاں جگہ بھیجتا ہوں، وہاں پانچ ہزار اہل حدیث جنات موجود ہیں ، جو آپ کو کھانا بھی کھلائیں گے۔ پھر آپ کو ان کے متعلق کسی قسم کا شبہ نہیں رہے گا ( بحوالہ کتاب: کرامات اہل حدیث صفحہ 131 ناشر: مسلم پبلی کیشنز سو بارہ)
امام جلال الدین سیوطی ( مکتبہ حنفیہ ) لکھتے ہیں کہ شیخ ابو نصر شعرانی نے حماد بن شعیب سے روایت بیان کی کہ وہ ایک ایسے شخص سے ملے جو جنات سے کلام کیا کرتے تھے۔ جنات نے انہیں بتایا کہ انسانوں میں جو شخص سنت نبوی سالی اسلم پر زیادہ کار بند ہو، وہ قوم جنات پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔
(بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان، صفحہ 144 ناشر : مکتبہ برکات المدینہ، بہادر آباد کراچی )
ملامحسن فیض کاشانی ( مکتبہ اثنا عشریہ ) لکھتے ہیں : حضرت سعید بن عباس رازی سے روایت ہے کہ یمن کے چند لوگ امام
مالک کی خدمت میں گئے اور کہا : ہمارے ہاں ایک جن ہماری لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ میں حلال کا خواہش مند ہوں ۔ امام مالک نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق دین میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن اس بات کو پسند بھی نہیں کرتا۔
(بحوالہ کتاب: المحجة البيضاء صفحہ 123 ناشر : مكتبه الصدوق تہران )
