آج کے اس گئے گزرے دور میں ہماری پستی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب باہمی منافرت اور فرقہ واریت ہے جس سے اُمت کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے جبکہ اختلاف تو شروع سے رہا ہے اور تا قیامت رہے گا۔ اکابر واسلاف کی باہمی رواداری کے متعلق مولانا سید محمد کفیل بخاری مدظلہ کی ایک تحریر آپ کی خدمت میں پیش ہے، جس سے آپ کو عبقری کا پیغام رواداری سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہمارے بڑے کس طرح مل کر رہتے تھے۔
مولانا مظہر علی اظہر علیہ الرحمۃ ( مکتبہ اثناء عشریہ ) مجلس احرار اسلام کے بانی رہنماؤں اور حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے رفقاء میں سے تھے۔ وہ مجلس احرار اسلام ہند کے سیکرٹری جنرل بھی رہے مفکر احرار چودھری افضل حق رحمہ اللہ کے بعد مجلس احرار میں وہ دوسری شخصیت تھے ، جنھوں نے قلم سنبھالا اور تحریری میدان میں بھی مجلس اور قوم کی خوب رہنمائی کی ۔ مولانا مظہر علی اظہر نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے کے باوجود 1930 کی تحریک مدح صحابہ رضى الله عنہم لکھنو کی قیادت کی ، 1935 کی تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت میں بھی بھر پور حصہ لیا ۔ احیاء احرار کیلئے جلسوں میں شرکت کی اور خطاب فرمایا۔ پیرانہ سالی کے باوجو ذہنی طور پر احرار سے ہی وابستہ رہے اور کسی دوسری جماعت میں شامل نہ ہوئے ۔ 7 ستمبر 1974 کو پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور مولانا اپنی زندگی میں یہ عظیم فیصلہ سن کر دنیا سے رخصت ہوئے ۔ ان کی نماز جنازہ جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب نے پڑھائی ۔ آپ کی تصنیفات میں مدح صحابہ رضى الله عنہم اور خطبات احرار جیسی بہت سی کتابیں شامل ہیں۔
(بحوالہ : ماهنامه نقیب ختم نبوت ستمبر ۲۰۱۸ صفحه ۲۹ ناشر: دار بنی ہاشم، مهربان کالونی، ملتان )
محترم قارئین! الحمد للہ موجودہ دور میں ماہنامہ عبقری اکابر واسلاف کے پیغام رواداری کو نہایت احسن انداز سے پھیلانے میں اپنا حصہ شامل کر رہا ہے۔
