قسط نمبر 123
شرعی تعویز کے جائز ہونے کا فتویٰ
اکابر پر اعتماد
ماہنامہ عبقری کا بنیادی مقصد لوگوں کے دکھوں کا مداوا اور پریشانیوں کا حل ہے اور ہمارے اکابر نے دکھوں اور بیماریوں کے حل کیلئے جہاں دیگر اسباب اختیار کیے، وہاں ایک سبب تعویذات کا بھی استعمال کیا ۔ کچھ لوگ اپنی کم علمی یا لاعلمی کی بناء پر ان تعویذات کو شرک کہتے ہیں۔ کراچی کے نہایت معتمد علمی ادارے ( جامعة العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن ) کا تعویذات کی تائید میں فتویٰ پیش خدمت ہے۔ اُمید ہے یہ فتویٰ علمی ذوق رکھنے والے حضرات کیلئے تسلی کا باعث بنے گا۔ اللہ پاک اکا بر و اسلاف کا علمی دفاع کرنے والے ان حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
سوال : ( کسی نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر سوال پوچھا کہ ) تعویذ کے جواز کے دلائل کیا ہیں؟
جواب: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا، اللہ تعالیٰ کی قدرت و کبریائی پر مشتمل کلمات تعوذ اپنے سمجھ دار بچوں کو یاد کراتے تھے اور جو بچہ سمجھ دار نہ ہوتا ، اُس کے گلے میں وہ کلمات لکھ کر تعویذ کی شکل میں ڈال دیتے تھے” ۔ یہی تعویذ کی حقیقت ہے۔ اُن کے اس عمل سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت پر مشتمل پر اثر کلمات کا تعویذ جائز ہے۔ باقی حدیث میں جن تعویذات کے استعمال کرنے کی ممانعت آئی ہے ، اس سے مراد وہ تعویذ ہیں، جن میں شرکیہ الفاظ استعمال کیے جاتے ہوں یا اس کے مؤثر بالذات ہونے کا عقیدہ رکھا جاتا ہو یا کلمات مجہولہ یا نا معلوم منتر اس میں ہوں۔
فقہاء کرام نے نصوص میں غور و فکر کر کے تعویذات اور عملیات کے ذریعے علاج کرنے اور اس پر معقول معاوضہ لینے کو چند شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے :
(1) ان کا معنی و مفہوم معلوم ہو (۲) ان میں کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو، (۳) ان کے مؤثر بالذات ہونے کا اعتقاد نہ ہو (۴) عملیات کرنے والا علاج سے واقف اور ماہر ہو ، فریب نہ کرتا ہو۔ لہذا ایسے تعویذ اور عملیات جو آیات قرآنیہ، ادعیہ ماثورہ یا کلمات صحیحہ پر مشتمل ہوں ان کو لکھنا ، استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے۔
