محترم قارئین ! بعض خاص الخاص اولیائے کرام کے دلوں پر انوارات الہیہ کا نزول ہر وقت ہوتا رہتا ہے، جس کی برکت سے ان پر کائنات کے ایسے علوم کھلتے ہیں ، جن تک عام انسان کی رسائی نہیں ہوتی۔ ماضی میں ایسے علوم کی حامل کئی ہستیاں گزری ہیں مثلا شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی ، حضرت پیر علی ہجویری ، شیخ عبد القادر جیلانی ، شاه نعمت الله المعروف شاہ مینا لکھنوی، حضرت سلطان باہو، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ اسماعیل شہید اور حضرت خواجہ سید محمد عبد اللہ مجذوب وغیر ہم ۔ ان ہستیوں کی کتابوں میں ابھی تک کائنات کے سربستہ راز اور غیبی علوم بکھرے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں انہی لدنی اور وہبی علوم و اسرار کی حامل جلیل القدر ہستی حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ جن کا سلسلہ وار مضمون ” جنات کا پیدائشی دوست” کے عنوان سے ماہنامہ عبقری میں شائع ہوتا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر واسلاف کے ہاں ان غیبی علوم کی کیا حقیقت تھی ؟
حجتہ الاسلام حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : انسان کے علمی ذرائع تین ہیں محسوسات سے معلومات کا اخذ کرنا، یہ پہلا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں ان چیزوں کا علم ان معلومات سے حاصل کیا جاتا ہے، جو مجہول اور نا معلوم ہیں۔ اور تیسرا طریقہ وہ ہے جسے علم بالغیب کہتے ہیں، یعنی غیب سے یہ علم پایا جاتا ہے۔ غیب سے علم پانے کا جو طریقہ ہے، اس کے ذیل میں وحی تحدیث، تفهیم، ذوق ، معرفت ، علم لدنی ، مشاہدہ ، وجدان ، تجلیات ، کشف ، عالم مثال کے ساتھ اتصال وربط صوری تجلیات جیسی چیزیں داخل ہیں ۔ ذوق سے جو چیزیں حاصل ہوتی ہیں، انہی کی تفصیل کا نام حکمت ہے اور معرفت کی راہ سے حاصل شدہ امور کی تفصیل کا نام فن حقائق ہے۔ جن اصطلاحات کا تذکرہ غیبی علوم کے سلسلے میں کیا گیا ہے ان کے معانی اور مطالب کا تذکرہ عنقریب آئندہ کیا جائے گا، ابھی اس کا انتظار کرو بعض دفعہ وحی کے سوا سارے علوم جو غیب سے حاصل کیے جاتے ہیں ، ان سب کی تعبیر کشف اور الہام سے لوگ کرتے ہیں۔ معصوم کے خبر دینے سے جو علم حاصل ہوتا ہے۔ یعنی عموماً جسے علوم نقلیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، دراصل علم کی یہ قسم نظریات ہی کے سلسلے میں داخل ہے۔ کیونکہ معلومات جو معصوم کے ذریعے سے حاصل ہوتے ہیں، ان پر اعتماد کرنے اور ان کو ماننے کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ آدمی کی عقل اپنے اندر مقدمات کو گویا اس طریقے سے مرتب کرتی ہے۔ یعنی یوں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ ایسی بات ہے، جس کی خبر معصوم نے دی ہے.
( بحوالہ کتاب: العبقات صفحہ 7 ناشر: ادارہ اسلامیات، انارکلی، لاہور )
