ہمارے اکابر و اسلاف کا یہ معمول تھا کہ وہ قرآن وحدیث سے مسائل کا استنباط کر کے مخلوق خدا کی خیر خواہی کے لیے وظائف اخذ کرتے تھے۔ مثلاً قرآن مجید کی سورۃ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کا واقعہ موجود ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھے تو اسی وقت استنباط کرتے ہوئے سوچا کہ جو رب اس با عصمت خاتون کو بے موسم پھل دے سکتا ہے، کیا وہ مجھے بڑھاپے میں اولاد نہیں دے سکتا ؟ لہذا اسی وقت دعا مانگنے پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں صالح بیٹا مل گیا۔
ماہنامہ عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے مضمون میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں، جن میں وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رہ کر دور دراز کا سفر فرماتے ہیں۔ اس پر کچھ لوگ اپنے اکابر واسلاف کی ترتیب زندگی سے غفلت کی بناء پر کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی کو نظر ہی نہ آئیں؟ حالانکہ جب ہم صحیح احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہجرت مدینہ کا واقعہ سامنے آتا ہے کہ جب حضور سرور کونین صلی السلام نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو آپ صلی الہ السلام کے گھر کے باہر مشرکین کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ لیکن آپ صلى الله عليه وسلم سورہ یاسین اور خاص طور پر یہ آیت ( وَجَعَلْنَا مِن بَين أَيْدِيهِم سَدًّا وَمِن خَلْفِهِم سَدًّا فَأَعْشَينُهُم فَهُم لَا يُبْصِرُونَ) پڑھتے ہوئے پہرہ دینے والے مشرکین کے سروں پر خاک ڈال کر تشریف لے گئے اور کسی کو نظر بھی نہ آئے ۔ بعد میں کسی نے کہا کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم تو ابھی ابھی تمہارے سروں پر مٹی ڈال کر یہاں سے رخصت ہوئے ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا تو واقعی ان سب کے سر خاک آلود تھے۔ اسی واقعے سے استنباط کرتے ہوئے ہمارے اکابر نے خطرے کی حالت میں حجاب الابصار کا عمل اپنے معمولات میں شامل رکھا اور انہی اکابر واسلاف کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم بوقت ضرورت اس عمل کو مخصوص تعداد اور مخصوص طریقے کے ذریعے اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔
