قارئین! جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ کا مضمون پڑھ کر کچھ لوگ اپنی عقل کے شکستہ پیمانے پر اسے تولتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ ایسے من گھڑت واقعات ہیں، جو اولین و آخرین میں کسی کے ساتھ رونما نہیں ہوئے، تو آج کس طرح یہ سب ہو سکتا ہے؟ ایسے تمام حضرات کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع کریں اور ان میں چھپے ہوئے قیمتی موتی اپنے دامن میں سمیٹ کر اپنے عقائد کی اصلاح کریں۔ ہمارے اکابر واسلاف نے جنات سے ملاقات کرنے کے واقعات اتنی کثرت سے بیان کیے ہیں، جن کا انکار کرنا ایک صحیح العقل انسان کے بس کی بات نہیں۔
مثلاً مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک دفعہ میں حمص سے چلا تو راستے میں رات کے وقت ایک جگہ وہاں کے جنات میرے پاس آگئے۔ میں نے اسی وقت سورہ اعراف کی یہ آیت پڑھی:
"إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ”۔
یہ سنتے ہی جنات نے ایک دوسرے سے کہا: اب تو صبح تک اس کا پہرہ دینا پڑے گا۔ چنانچہ انہوں نے ساری رات (مجھے تنگ کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی بجائے) میرا پہرہ دیا۔ صبح کو میں سواری پر بیٹھا اور آگے چل پڑا۔
(اخرجہ الطبرانی، بحوالہ کتاب: حیات الصحابہ صفحہ ۴۵۹ حصہ سوم، ناشر: زمزم پبلشرز، کراچی)
علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ واپس لوٹے تو راستے میں مقام جحفہ پر قیام کیا اور فرمایا: تم میں سے کون باہمت ہے جو فلاں کنویں سے پانی لے آئے، میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک صحابی نے عرض کی کہ میں جاتا ہوں۔ حضرت سلمہ بن اکوع بھی ان کے ساتھ تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کنویں کے قریب پہنچے تو وہاں کے درختوں سے عجیب و غریب آوازیں آرہی تھیں اور ان سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔ ہم ڈر کے واپس آگئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنات تھے، اگر تم میرے کہنے کے مطابق چلے جاتے تو وہ تمہیں کچھ نہ کہتے۔ پھر ایک اور جماعت بھیجی، وہ بھی ڈر کر واپس لوٹ آئی۔
بالآخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر پانی لینے بھیجا۔ ان کے ساتھ بھی ایک جماعت تھی جو ایسا خوفناک منظر دیکھتے ہی ڈر گئی جتنے کہ ان خوفناک درختوں سے کٹے ہوئے سر ظاہر ہونے لگے۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ڈرو نہیں! یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اور "أعوذ بالرحمن” پڑھتے ہوئے کنویں کے قریب پہنچ گئے۔ کنویں میں سے پانی نکالنا شروع کیا تو وہاں سے بھی قہقہوں کی خوفناک آوازیں آتی رہیں، مگر انہوں نے اطمینان سے پانی بھرا اور واپس آگئے۔ راستے میں ہاتفِ غیبی کی آواز آئی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں منقبت پڑھ رہا تھا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر ماجرا سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہاتف "عبداللہ جن” تھا، جس نے بتوں کے شیطان مسعر کو کوہِ صفا میں قتل کیا تھا۔
(بحوالہ کتاب: جن ہی جن صفحہ 118، ناشر: سیرانی کتب خانہ، نزد سیرانی مسجد بہاول پور)
محترم قارئین! بھلا ایسی بدقسمتی کس پر غالب ہوگی جو حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بیان کردہ حقائق کو خودساختہ کہانیاں کہہ کر رد کرتا پھرے۔
