محترم قارئین ! عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم العالیہ کے مضمون میں اکثر رجال الغیب کا ذکر ملتا ہے ، کہ اولیائے کرام میں سے کچھ ایسے مقرب بندے ہوتے ہیں، جن کی ڈیوٹیاں اللہ جل شانہ نے بعض مخصوص امور کی انجام دہی پر لگائی ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسی باتیں پڑھ کر شش و پنج میں پڑ جاتے ہیں اور اپنی لاعلمی یا کم عقلی کی بنیاد پر جلدی سے شرک کا فتویٰ لگا دیتے ہیں، حالانکہ رجال الغیب کو سمجھنا ہو تو قرآن وسنت میں مکمل رہنمائی موجود ہے:
فالمدبرات امرا ” ایسے فرشتے جو امور کی تدبیر میں لگے رہتے ہیں۔ یعنی بارش برسانا تو اللہ جل شانہ کا کام ہے، لیکن بارش کب اور کہاں برسانی ہے، اس کام پر فرشتہ مقرر ہے۔ رزق دینا اللہ جل شانہ کی شان ہے، لیکن مخلوق تک رزق پہنچانے پر فرشتے مقرر ہیں۔ اولاد دینا اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہے، لیکن حاملہ عورت کے پیٹ میں روح پھونکنے پر فرشتے کی ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔ بالکل اسی طرح رجال الغیب اولیائے کرام کیلئے مخصوص ڈیوٹیاں ہوتی ہیں، جو وہ پوری ذمہ داری سے نبھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اہل بیت کے شہسوار حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام دونوں ہر سال موسم حج میں ملاقات کرتے ہیں اور ان کلمات پر علیحدہ ہوتے ہیں:
بسم اللہ ماشاء الله لا يسوق الخير الا الله ما كان من نعمة فمن الله بسم الله ماشاء الله لا يصرف السوء الا الله ماشاء الله لا حول ولا قوة الا بالله
یہ حدیث بیان کر کے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو شخص ان کلمات کو صبح و شام تین مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اسے غرق ہونے سے ، جل جانے سے، چوری ہونے سے ، شیطان سے، بادشاہ کے ظلم سے، سانپ سے اور بچھو سے محفوظ رکھے گا
(دار قطنی صفحه ۲۲۵، تاریخ ابن عساکر صفحه ۷۴۰، تہذیب تاریخ دمشق صفحه ۱۵۵، اتحاف السعادۃ صفحہ ۱۱۲، البدایہ والنہایہ صفحه ۳۳۳، کنز العمال صفحه ۳۴۰، در منشور صفحه ۲۴۰، لسان المیزان صفحه ۹۲۰، شرح السنه صفحه (۴۴۳) حوالہ کتاب: تاریخ جنات و شیاطین صفحہ 225 مصنف: مولانا امداد اللہ اور جامعہ اشرفیہ لاہور ( مکتبہ دیوبند) ناشر: دار المعارف تحصیل جلال پور، ملتان)
