عبقری میں سلسلہ وار شائع ہونے والے کالم جنات کا پیدائشی دوست کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سراسر دیومالائی کہانیاں ہیں۔ کبھی جنات سے ملاقات ہونے کو ناممکن کہا جاتا ہے اور کبھی ارواح سے ملنے پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم تو ابھی صرف اولیائے کرام رحمہم اللہ کی ارواح سے ملاقات کی روداد بیان فرماتے ہیں۔ ہمارے اکابر واسلاف میں ایسے کئی شہسوار گزرے ہیں، جنہوں نے دیگر مخلوقات کی روح سے ملاقات کرنے کو بھی راز میں نہ رکھا، بلکہ اس نیت سے منظر عام پر لے آئے تاکہ لوگوں کے عقائد قیامت تک آنے والے ہر زمانے میں درست رہیں۔
مثلاً حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حج کے سفر کی روداد اپنے مرشد حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو لکھتے ہوئے کن روحوں سے ملاقات کا تذکرہ فرمایا:آئیے دیکھتے ہیں!
الحمدللہ فقیر خیر وعافیت مکہ معظمہ میں مقیم ہے۔ حج کے بعد مدینہ منورہ کی زیارت کا ارادہ ہے۔ فضلِ تعالیٰ اس بابرکت اور مسعود سفر میں جو بشارتیں اور اعلیٰ درجے کی عنایات خداوند تعالیٰ کی طرف سے اس فقیر کو میسر ہوئی ہیں، ان میں سے کچھ تحریر کی جاتی ہیں۔
جب میں وطن سے سامان روانگی کی تیاری میں تھا، انہی دنوں ایک رات میرے مکان کی روحانیت نمودار ہوئی، جو میرے روبرو بہت غمگین شکل میں کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی:
"اے ہمارے معزز آقا! کل آپ ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔”
وہ اتنی آبدیدہ ہوئی کہ اس کے رنج سے میں بھی رو پڑا۔
اس ادنی بندہ (یعنی سید احمد شہید) نے مالکِ حقیقی کی بارگاہ میں عرض کی کہ اس مکان روحانیت کی محبت اور اس کے بدلے اس کی تسکین کے لیے کچھ فرمائیے۔ مجھے حکم ملا کہ اسے کہو: "تجھے جنت میں لے جائیں گے۔”
لہٰذا میں نے حکم بجا لایا اور اس کو یہ بشارت سنا دی۔
یقیناً مکان کی روحانیت بہت مسرور ہوئی۔
دریا کی روح سے مکالمہ:
جب کلکتہ سے روانہ ہو کر دریائے شور تک پہنچے تو دریائے شور کی روح بڑی شان و شوکت اور دبدبہ کے ساتھ ظاہر ہوئی اور فقیر سے ملاقات کی اور مقابلہ اور جھگڑے کے لیے تیار ہوئی۔ اس کی گفتگو کے الفاظ یاد نہیں رہے، لیکن اتنا محفوظ ہے کہ وہ اپنا رعب و داب ظاہر کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ اس کے سامنے عاجزی اور انکساری کی جائے اور اس کی بات مانی جائے۔
جب اس کی ہیبت دیکھی اور اس کی درخواست معلوم ہوئی تو اس کے رعب اور ڈر سے میرے نفس پر ذرا بھی اثر نہ ہوا اور میں نے پرواہ نہیں کی۔ بلکہ جواب میں کہا:
"میں اور تُو دونوں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ مجھے تیری خوشامد کرنے کا کیا مطلب؟ تجھ سے ہرگز التجا نہ کروں گا۔”
وہ روح یہ بیان سننے کے بعد جھگڑا کرنے سے باز آئی اور خوش ہوگئی۔
جب جہاز بمقام قاب و قمری پہنچا (یہ جگہ مشہور ہے جہاں جہاز ڈگمگاتے ہیں) ہمارا جہاز بھی ڈگمگانے لگا اور بوجہ سر چکرانے کے لوگوں میں اضطراب اور اداسی چھا گئی۔ اس وقت ایک تجلی نمودار ہوئی، جو ایک طرف سے جارہی تھی اور باری تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا:
"اگر ہم تجھے ڈبو دیں تو کیا کرے گا اور کس کو مدد کے لیے لائے گا؟”
میں نے عرض کیا:
"اے خداوند! اگر میرا ڈبونا تجھے پسند ہے اور تمام دنیا چاہے کہ مجھے پکڑے اور باہر لائے، تو میں ہرگز باہر آنے کے لیے راضی نہیں ہوں، اور نہ ہی کسی کو اپنا معاون بناؤں گا۔”
ایک تبسم بھری کیفیت نمودار ہوئی اور فرمایا:
"تجھے ڈبویا جائے گا۔”
(بحوالہ کتاب: تحریک مجاہدین، جلد 6، صفحہ 56، مصنف: ڈاکٹر صادق حسین ایم بی بی ایس)
