مولانا امیر حمزہ (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ وتر (اکیلا/طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ لہذا اے اہل قرآن! وتر ادا کیا کرو (ترمذی 453 حدیث صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم رات کی نماز کو کس طرح طاق کریں؟ فرمایا: رات (تہجد) کی نماز دو دو رکعت کر کے ادا کرو، آخر میں ایک رکعت پڑھ لیا کرو، اس سے ساری نماز طاق ہو جائے گی (مسلم) مغرب کی نماز کی تین رکعتیں سارے دن کی نمازوں کو طاق بنا دیتی ہیں۔ دن اور رات میں 5 نمازیں طاق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عبادت بھی طاق اور جس کی عبادت کی جارہی ہے وہ بھی طاق، یعنی نماز کی ہر رکعت توحید کا اعلان کرتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل میں توحید کی خوشبو ہے۔ جب آنکھوں میں سرمہ لگاتے تو سلائیاں بھی طاق عدد میں (3) ڈالتے۔ کھجور تناول فرماتے تو طاق تعداد (3 / 5 یا 7) تناول فرماتے۔ ہر عمل میں توحید کی خوشبو۔ نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ کی آیات بھی طاق (7) ہیں.
(بحوالہ کتاب: قرآن کا تحفہ، تندرستی کا نسخہ، صفحہ 32، ناشر: مکتبہ دارالاندلس، چوبرجی لاہور)
محترم قارئین! کبھی غور کریں کہ عبقری میں بتائے جانے والے تمام وظائف کی ایک خاص تعداد مقرر ہوتی ہے۔ مثلاً: گھر سے نکلتے وقت ایک مرتبہ بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھیں۔ 11 مرتبہ یا حفیظ یا سلام پڑھیں۔ اولاد کو اللہ کی پناہ میں دینے کیلئے 3 یا 7 مرتبہ بسم اللہ علی دینی و نفسی و ولدی و اہلی و مالی پڑھیں۔ جادو جنات سے بچنے کیلئے 21 مرتبہ دعائے حضرت کعب پڑھیں۔ ہر طرح کی جسمانی و روحانی شفاء پانے کیلئے فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 41 مرتبہ سورۃ الفاتحہ پڑھیں۔ لاعلاج بیماریوں سے بچنے کیلئے بارش کے پانی پر 70/70 مرتبہ آیت الکرسی، سورۃ فاتحہ، آیت کریمہ اور چاروں قل پڑھیں۔ مرنے سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھنے کیلئے مسلسل 3 سال صبح و شام 101 مرتبہ تیسرا کلمہ، درود شریف اور استغفار پڑھیں۔ جادو، جنات، نظر بد اور نت نئی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے 313 مرتبہ فَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ پڑھیں۔ یعنی ہر تعداد طاق، ہر عمل میں توحید کے راز۔
قارئین! عبقری اور تسبیح خانہ تو مخلوق خدا کو ہر پل، ہر سانس توحید پر لگا رہا ہے۔ ایسی توحید جس میں عقیدہ بھی یہ ہو کہ ہم صرف اعمال سے پلیں گے، اعمال سے بنیں گے، اعمال ہی سے بچیں گے اور عملی طور پر بھی زبان پر اللہ وحدہ لا شریک کا نام ہو۔ لہذا جو لوگ عبقری اور تسبیح خانے کے متعلق لوگوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرتے ہیں، انہیں سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے کہ وہ توحید والے اعمال سے بلاوجہ بدگمان ہیں اور توحید ہی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے غلط جذبے رکھتے ہیں۔ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی توحید کی غیرت میں باقی سب گناہ تو معاف کر سکتا ہے، لیکن شرک کبھی معاف نہیں کرے گا۔
