اکابر سے جڑنے کا فائدہ کیا ہوگا؟


مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی صاحب فرماتے ہیں کہ اپنے اندر اسلاف (اکابر) پر اعتماد پیدا کرو، کیونکہ اچھا عالم بننے کیلئے اچھی صفات کا ہونا ضروری ہے۔ ہر نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا ہے ” اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم ” کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں والے سیدھے رستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ اسی طرح حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے (کنز العمال) یاد رکھنا چاہئے کہ فرقہ اس گروہ کو کہتے ہیں جو اپنے اکابر سے کٹ چکا ہو۔ اور فرقہ واریت یہ ہے کہ اپنے اکابر سے ہٹ کر کوئی نیا عمل یا عقیدہ ایجاد کر لیا جائے۔ مولانا خیر محمد جالندھری فرمایا کرتے تھے کہ اسلام ہمارے اکابر کے ذریعے ہم تک سلسلہ وار پہنچا ہے۔ مثلاً ریل گاڑی میں اصل چیز تو انجن ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ جڑے ہوئے ڈبے بھی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ہوئے اہل بیت و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جو شخص بھی جڑا رہے گا، وہ منزل (جنت) تک ضرور پہنچے گا

لہٰذا محترم قارئین! الحمدللہ عبقری اور تسبیح خانے میں صرف زبانی کلامی نہیں، بلکہ عملی طور پر اکابرین امت (آل رسول، اصحاب رسول، فقہاء، اولیاء صالحین) کے ساتھ جڑے رہنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے اور ان کے اعمال/وظائف بھی بتائے جاتے ہیں، تا کہ آج قرب قیامت کے دور میں بھی ہم اپنے اکابر و اسلاف کی طرح اللہ جل شانہ کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے والے بن جائیں اور آخرت میں ہمارے درجات بلند کرنے کیلئے جو نہی کوئی آزمائش آئے، ہم اپنے اکابر و اسلاف کے طریقے کے مطابق فوراً کسی وظیفے کے ذریعے اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025