انہوں نے جو فرمایا۔ وہی اولاد پیدا ہوئی


عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے ایسے واقعات، جن میں کشف یا کسی کے متعلق پیشین گوئی موجود ہو، پڑھ کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ساری من گھڑت کہانی ہے۔ قارئین : اگر خدانخواستہ یہ من گھڑت کہانی ہوتی تو گزشتہ تمام اکابر اسلاف میں اس کہانی کا تذکرہ کہیں نہ ملتا۔ مثلاً مولانا عبد المجتبی رضوی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں : جعفر بن صالح کا بیان ہے کہ میری بیوی حاملہ تھی۔ انہی دنوں اہل بیت کے شہسوار حضرت امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کی : حضور! دعا کیجئے کہ رب قدیر میری بیوی کو لڑکا عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا: تیری بیوی دو بچوں کی حاملہ ہے۔ یہ سن کر میں بہت خوش ہوا اور واپس چل پڑا۔ دل میں سوچنے لگا کہ ایک کا نام محمد اور دوسرے کا نام علی رکھوں گا۔ یہ خیال آتے ہی آپ نے پیچھے سے آواز دی اور فرمایا: ایک بچے کا نام علی اور دوسرے کا نام ام عمر رکھنا۔ چنانچہ جب ولادت ہوئی تو ایک بیٹا تھا اور ایک بیٹی۔ لہذا میں نے نصیحت کے مطابق وہی نام رکھے

مولانا محمد اسحاق بھٹی (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری 1348ھ میں حج کیلئے تشریف لے گئے۔ ان کے چھوٹے بھائی قاضی عبدالرحمان صاحب انہیں کراچی بندرگاہ تک چھوڑنے گئے۔ جب قاضی محمد سلیمان صاحب جہاز کے عرشے پر گئے تو عبدالرحمان صاحب سے فرمایا : میرے بیٹے عبدالعزیز کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوگا، اس کا نام معزالدین رکھنا۔ چنانچہ اسی حج سے واپسی پر قاضی صاحب کا انتقال ہو گیا اور تقریباً 7 ماہ بعد عبدالعزیز صاحب کے گھر بیٹا پیدا ہوا، جس کا نام معزالدین حسن رکھا گیا۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025