شیخ الحدیث مولانا جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری کلاس میں مردان کے ایک نئے طالب علم حبیب احمد داخل ہوئے۔ ان کے والد مرحوم عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ عامل بھی تھے اور روحانی عملیات میں مشہور تھے۔ چونکہ ان کے والد مرحوم جنات کے علاج میں بہت ماہر تھے، اس لیے جنات انتقامی کارروائی کے طور پہ ہمارے کمرے پر حملہ کرتے رہتے تھے۔ مولانا حبیب احمد کے پاس تو خاص قسم کے تعویذ تھے جن سے ان کی حفاظت رہتی تھی لیکن وہ جنات کمرے کے دوسرے ساتھیوں کو اکثر تنگ کرتے رہتے تھے
(بحوالہ کتاب: جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بیتے ہوئے دن صفحہ 81 ناشر: مکتبہ حکیم الامت عید گاہ بہاولنگر)
جامعہ میں مجذوب کی آمد:
جامعہ بنوری ٹاؤن میں بعض اوقات ایک مجذوب آیا کرتے۔ ہمارے استاد صاحب ان کی آمد پر بہت خوش ہوتے اور سبق روک کر ان کی بات سنتے۔ وہ مجذوب حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ کی آواز میں تقریر کرتے، پھر ہمارے استاد صاحب سے پیسے مانگتے۔ اگر ان کے پاس ہوتے تو وہ خود دے دیتے اور اگر نہ ہوتے تو کسی طالب علم سے دلوا دیتے۔ اس مجذوب کی عادت تھی کہ ہر بار واپس جاتے ہوئے جامعہ کے مین گیٹ پر جو بھی طالب علم ملتا، وہ پیسے اس کو دے کر چلا جاتا.
(بحوالہ کتاب: جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں بیتے ہوئے دن صفحہ 121 ناشر: مکتبہ حکیم الامت عید گاہ بہاول نگر)
محترم قارئین! جو لوگ کہتے ہیں کہ عبقری اور تسبیح خانے میں من گھڑت واقعات بیان کیے جاتے ہیں، شریعت میں جنات کے تنگ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں اور اکابر واسلاف میں رجال الغیب اور مجذوب کا کوئی وجود نہیں، انہیں چاہئے کہ درج بالا دونوں واقعات غور سے پڑھیں اور سوچیں کہ کیا یہ واقعات بھی عبقری کے شائع کردہ ہیں اور کیا ان کے مصنف بھی جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری ہیں؟ ہمیں چاہئے کہ اللہ پاک سے اپنے لیے شرح صدر مانگیں اور اپنے اکابر پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ پلیز یہ میسج زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
