جو مکان نہ بکتا ہو، وہاں یہ عمل کریں


شیخ الحدیث مولانا جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ مفتی اعظم پاکستان، حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا فلیٹ برائے فروخت رکھا لیکن وہ بک نہیں رہا تھا۔ حضرت نے مجھے ایک عامل کے پاس بھیجا، کہ ان سے کوئی وظیفہ پوچھ کر آؤں۔ اس عامل نے کہا کہ مکان میں بیٹھ کر 14 ہزار مرتبہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کا ختم کروائیں تو مکان بک جائے گا۔ حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کام پر میری ڈیوٹی لگائی۔ میں مدرسے کے چند ساتھیوں کو لے کر وہاں گیا اور ہم نے بیٹھ کر وظیفہ ختم کیا، جس کے چند دن بعد مکان بہترین قیمت پر فروخت ہو گیا


محترم قارئین! اس واقعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ چھوٹی بڑی ضروریات زندگی میں اعمال کا سہارا لینا صرف تسبیح خانے کی ترتیب نہیں، بلکہ ہمارے تمام اکابر و اسلاف کی ترتیب ہے۔ جو جتنا زیادہ اعمال کی طرف راغب ہوتا چلا جائے گا، وہ اتنا ہی زیادہ اللہ جل شانہ کا قرب اور آقا سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی پاتا چلا جائے گا۔ یہی مقصد ہے عبقری تسبیح خانے کا اور یہی مشن ہے تمام اکابر واسلاف صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کا۔ جس طرح گزشتہ دور میں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تجدید کا کام اپنے مقرب اولیائے کرام سے لیتا تھا، اسی طرح موجودہ دور میں یہی کام حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ سے لیا جا رہا ہے۔ اللہم زد فزد

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025