کچھ عرصہ پہلے تسبیح خانے سے ” تیس روزے تیس عبادتیں” نامی ایک قیمتی کتاب شائع ہوئی۔ جس میں لاجواب حافظہ پانے کا ایک مجرب عمل لکھا ہوا تھا۔ بعض لوگوں نے اس کے مزید دلائل مانگے ، جو گزشتہ پوسٹوں میں دے دیے گئے۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں حافظہ مضبوط بنانے کیلئے کون کون سے اعمال جاری تھے اور یہ بھی سوچتے ہیں کہ کیا ہمارے اکابر کے ان اعمال پر بھی ایسے ہی اعتراض کیا جاتا تھا، جیسے عبقری کے متعلق کیا جاتا ہے؟
حضرت خواجہ احمد دیر بی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ اگر تم چا ہو کہ پڑھی ہوئی بات کبھی نہ بھولو تو کچھ بھی پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیا کرو :
اللهم افتح على فتوح العارفين بحكمتك وانشر على رحمتك وذكر في ما نسيت ياذا الجلال والاكرام
– امام کلبی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ان کا بیٹا قرآن مجید میں سے جو یاد کرتا تھا، اسے بھول جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن انہوں نے خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کیلئے یہ آیات لکھو :
الرحمن – علم القرآن – خلق الانسان علمه البيان الشمس والقمر بحسبان – ان علينا جمعه وقرآنه . فاذا قراناه فاتبع قرآنه ثم ان علينا بیانه بل هو قرآن مجید في لوح محفوظ سنقرئك فلا تنسى – اقرا وربك الاكرم الذي علم بالقلم – علم الانسان مالم يعلم
لکھنے کے بعد ان آیات کو پانی سے دھو کر بچے کو پلا دو۔ یہ عمل بس ایک ہی مرتبہ کرنا کافی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ عمل ایک ہی دفعہ کیا تو میرا بیٹا آسانی سے حافظ قرآن بن گیا
(بحوالہ کتاب: مجربات دیر بی صفحه 399 ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور )