سات صدیاں پرانا جُبّہ

جو لوگ کہتے ہیں کہ جنات سے ملاقات من گھڑت کہانیاں ہیں، اب تک ان کے سامنے اکابرینِ امت کے درجنوں دلائل پیش کیے جا چکے ہیں، جن میں جنات سے ملاقات کا ثبوت موجود ہے۔ اس کے برعکس اعتراض کرنے والوں کے پاس اس بات کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ "یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی”۔ اب ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں:

حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ امام ابن جوزی نے حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت بیان کی:
انہوں نے کسی مقام پر ایک بوڑھے جن کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جس نے اُون کا جبّہ پہنا ہوا تھا اور اس پر بڑی روانی محسوس ہو رہی تھی۔ حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
نماز سے فارغ ہونے پر میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے جواب دے کر فرمایا:”تم اس جبّے کی روانی پر تعجب کر رہے ہو؟ یہ جبّہ سات سو سال سے میرے بدن پر ہے۔ اسی جبّے میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت کی، اور اسی جبّے میں مجھے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ کیونکہ میں ان جنات میں سے ہوں جن کے متعلق سورۃ الجن نازل ہوئی تھی۔”

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025