مولانا عبدالغنی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ گجرات تشریف لے گئے۔ وہاں ایک شخص نے آکر عرض کی کہ:
"میرے گھر میں رات کے ایک مخصوص وقت زوردار دھماکہ ہوتا ہے، کیونکہ میرے گھر میں ایک جن رہتا ہے اور وہ رات کو کسی کمرے کا دروازہ اتنے زور سے بند کرتا ہے کہ بچے ڈر کے اٹھ جاتے ہیں۔ آپ مہربانی فرما کر اس کا کوئی حل کر دیجئے۔”
مولانا شمس الحق افغانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
"اچھا، ایسا کرنا کہ تقریر کے بعد مجھے اپنے گھر لے چلنا، رات وہیں گزاروں گا۔”
لہٰذا جب صبح ہوئی تو پوچھا گیا:
"حضرت! رات کیسی گزری؟”
فرمایا:
"میں تہجد کے نوافل پڑھ کر بیٹھا تو دیکھا کہ میرے پیچھے ایک مولوی صاحب باادب بیٹھے ہیں۔ میں نے کہا: اچھا، تو تم آگئے؟”
اس نے مجھ سے مصافحہ کیا تو میں نے اسی وقت اسے اپنی گرفت میں لے لیا اور پوچھا:
"تم کون ہو؟”
کہنے لگا:
"حضرت! میں چین کا رہنے والا ہوں اور دارالعلوم میں فلاں سن میں آپ کا شاگرد رہا ہوں۔ ایک دن یہاں سے گزرتے ہوئے یہ گھر مجھے پسند آ گیا تو میں یہیں رہنے لگا۔”
میں نے کہا:
"تم ایک عالم دین ہو کر مخلوقِ خدا کو تنگ کرتے ہو؟”
کہنے لگا:
"نہیں حضرت! میں تو صرف رات کو آتا ہوں اور صبح سے پہلے احتیاط سے دروازہ بند کر کے چلا جاتا ہوں۔”
میں نے کہا:
"بھئی! تیرے دروازہ بند کرنے کا انداز بھی تو ایسا ہے نا کہ بے چارے سب گھر والے ڈر جاتے ہیں۔ لہٰذا تو اس گھر کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا جا۔”
کہنے لگا:
"ٹھیک ہے، آپ مجھے گلے مل لیجئے، پھر میں ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا۔”
پس، اس نے مجھ سے معانقہ کیا اور اسی طرح زور دار دھماکے سے دروازہ بند کر کے ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اب وہ کبھی نہیں آئے گا۔
(بحوالہ کتاب: مجالسِ افغانی، صفحہ 153، ناشر: مکتبہ سید شمس الحق افغانی، شاہی بازار، بہاولپور)
محترم قارئین!
جو لوگ عبقری میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی جنات سے ملاقاتوں پر اعتراض کرتے ہیں، وہ اس واقعے کو غور سے پڑھیں اور براہ کرم اپنے گزشتہ عقائد سے توبہ کرتے ہوئے ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔
