تبلیغی اجتماع میں ایک خیمہ ہمیشہ خالی کیوں رہتا تھا ؟

انٹرویو: مولانا محمد شعیب صاحب
خطیب جامع مسجد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ منچن آباد

مؤرخہ: 11 جنوری 2019ء بمقام : عبقری تسبیح خانه محترم قارئین !ہر ماہ عبقری میں شائع ہونے والا حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا علمی و تحقیقی کالم ” جنات کا پیدائشی دوست” پڑھ کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آج کے دور میں کسی انسان کو جنات کیسے نظر آسکتے ہیں؟ اس سلسلے میں مولانا محمد شعیب صاحب کے تاثرات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

میں مدرسۃ العربیہ دار العلوم رائے ونڈ سے فارغ التحصیل ہوں ۔ ہمارے شیخ الحدیث مولانا جمشید صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ہاں جنات کا آنا جانا مشہور ہے۔ حتی کہ میرے چچا جب 1956 ء میں پہلی مرتبہ ان کے ہاں گئے تو دیکھا کہ ان کے درس کے دوران ایک طرف تمام سامعین بیٹھے ہوئے ہیں ، اور دوسری طرف خالی قناتیں لگا کر جگہ مختص کی ہوئی ہے ۔ ہم نے سوچا کہ پتہ نہیں ، اس خالی جگہ میں کسی کو قیام کیوں نہیں کرنے دیتے۔ چنانچہ درس کے بعد تمام حاضرین کو کھانا کھلایا گیا۔ اس وقت وہاں ذبح کی گئی ایک گائے کا گوشت سب حاضرین مجلس میں پورا آگیا۔ کیونکہ اس وقت اتنا زیادہ رش نہیں ہوتا تھا۔

بہر حال چچا نے کھانا کھانے کے بعد وہاں کے لوگوں سے پوچھ ہی لیا کہ سب لوگوں کو ایک ہی طرف کیوں بٹھایا ہوا ہے؟ وہاں کے پرانے ساتھیوں نے بتایا کہ حضرت شیخ الحدیث مولانا جمشید علی خان صاحب کے پاس کثیر تعداد میں جنات آتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے الگ سے قناتیں لگوا کر فرمایا ہوا ہے کہ بھئی ! اس طرف نہ بیٹھنا، یہاں اللہ تعالیٰ کی کسی اور مخلوق کا قیام ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025