محترم قارئین ! حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ عبقری میں جنات کا پیدائشی دوست کے عنوان سے کئی سال پہلے بیتے ہوئے واقعات یوں بیان کرتے ہیں ، جیسے ابھی کل ہی کا واقعہ ہو۔ دراصل اس قوت حافظہ کے پیچھے ان کو اللہ جل شانہ سے ملی ہوئی وہ خاص کرامت ہے، جو پہلے دور میں صرف اکابرین امت کو عطا ہوتی تھی۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔
ایک دن حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میں نے آج تک ایک جن سے زیادہ قوت حافظہ کسی کی نہیں دیکھی۔ حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا : وہ کیسے؟ فرمایا: میرے پاس پنجاب کے شہر شیخو پورہ کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے : ہماری ایک نو جوان بیٹی کو جنات کی تکلیف ہے۔ اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کسی درخت پر بیٹھی ہوتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی بلند ترین بلڈنگ کی دیوار پر نظر آتی ہے۔ پھر اسے نیچے اتارنے میں ہم پر قیامت گزر جاتی ہے۔ وہ جن کہتا ہے کہ ہم حضرت درخواستی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید ہیں اور انہی کے کہنے پر جائیں گے۔ بہر حال میں وہاں پہنچا تولڑکی پر جنات آگئے۔
میں نے پوچھا: بھئی تم کیسے میرے مرید ہو گئے؟ کہنے لگے : حضرت ! ایک مرتبہ آپ نے فلاں قصبے میں تقریر کے دوران مجمع کو کچھ ورد وظیفے بتائے تھے، ہم نے اسی وقت سے آپ کے مرید ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ کونسی تقریر تھی ؟ لہذا اس جن نے لڑکی کی زبانی اڑھائی گھنٹے کی تقریر آیات اور احادیث سمیت حرف بہ حرف سناڈالی۔ اور سنائی بھی میرے ہی مخصوص لہجے میں ۔ حالانکہ یہ تقریر بیس سال پہلے کی تھی۔ یہ سن کر مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا: حضرت! کیا آپ کو بیس سال پرانی تقریر یاد تھی ؟ فرمانے لگے: بھئی میں نے تو خود تقریر کی تھی، مجھے کیوں یاد نہ رہتی ؟ مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہنس کر فرمایا : حضرت ! پھر تو اس جن سے زیادہ آپ کا حافظہ مضبوط ہے، حالانکہ ہم رات کو کہی ہوئی بات دن کو بھول جاتے ہیں
( بحوالہ کتاب: واقعات و کرامات اکا بر صفحہ 378 مؤلف: مولانا ثناء اللہ سعد شجاع آبادی، عمر پبلی کیشنز ، غزنی اسٹریٹ اردو بازار لاہور )
