مرنے کے بعداللہ کا ہر عاشق زندہ ہوتا ہے

شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے15 اکتوبر 2020ء کے درس میں اور پچھلے کئی دروس میں مرنے کے بعد زندہ ہونے والے کئی اولیائے کرامؒ کے واقعات بیان کئے ہیں۔ آئیے..! ان واقعات کو حقیقت کے آئینہ میں جانتے ہیں ۔

کتاب ’’فضائل اعمال‘‘ کے مصنف شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ذکریا صاحب ؒ نے حضرت ابو علی رود باری ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص عید کے دن بہت خستہ حال‘ پرانے کپڑے پہنے، میرے پاس آیا کہنے لگا۔ یہاں کوئی پاک صاف جگہ ایسی ہے جہاں کوئی غریب فقیر مرجائے۔ میں نے لاپروائی سے لغو سمجھ کر کہہ دیا کہ اندر آجا اور جہاں چاہے پڑ کے مرجا۔ وہ اندر آیا، وضو کیا، چند رکعات نماز پڑھی اور لیٹ کر مرگیا۔ میں نے اسکی تجہیز تکفین کی اور جب دفن کرنے لگا تو مجھے خیال آیا کہ اس کے منہ پر سے کفن ہٹاکر اس کا منہ زمین پر رکھ دوں تاکہ حق تعالیٰ شانہ اس کی غربت پر رحم فرمائے میں نے جب اس کا منہ کھولا تو انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔ میں نے پوچھا میرے سردار کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟ کہنے لگا کہ میں زندہ ہوں اوراللہ تعالیٰ کا ہر عاشق زندہ ہوتا ہے۔ میں کل قیامت میں اپنی وجاہت سے تیری مدد کروں گا۔ علی بن سہل اصبہانیؒ کہا کرتے تھے کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں بھی اسی طرح مروں گا جس طرح لوگ مرتے ہیں۔

قارئین !شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کابیان کردہ ہر واقعہ تعلمات اکابرؒ کا ترجمان ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025