شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے اکثر بیانات میں وضو کے بعد بچے ہوئے پانی تو پینے کی ترغیب دیتے ہیں اور یہ سالہاسال سے آپ کا معمول ہے عبقری کے پیغام سنت کو عام کرنے والی ایک واضح دلیل مفتیان کرام کی زبانی پڑھیے ٔ۔۔۔۔۔!
فاعتبرو یا اولی الابصار
سوال:
احناف کی اکثر کتابوں جیسے درمختار وغیرہ میں یہ لکھا ہے کہ وضوکے بعد تین گھونٹ پانی پینا مستحب ہے جب کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ براہ کرم، اس مسئلہ کو مدلل بیان کریں۔
جواب:
فتوی(م): 1753=1753-11/1432 بدعت کہنے والوں کی دلیل کیا ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وضو کا بچا ہوا پانی پی لینا آداب میں سے ہے، چاہے کھڑے ہوکر پیئے یا بیٹھ کر۔ بخاری شریف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: أنہ بعد ما توضأ قام فشرب فَضْلَ وضوئہ وہو قائم اور درمختار میں ہے: وأن یشرب بعدہ من فضل وضوئہ کماء زمزم مستقبل القبلة قائمًا أو قاعدًا إلخ
واللہ تعالیٰ اعلم، دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
بنوری ٹائون کا فتویٰ
وضو کا بچا ہوا پانی پی لینا آداب میں سے ہے، چنانچہ:
۱- ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضو فرمایا اور وضو کے بعد بچا ہوا پانی کھڑے کھڑے پی لیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی فرمایا تھا۔
(سنن ترمذی، رقم الحدیث : ٤٨)
۲- حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرا بھانجا بیماری کی وجہ سے بےچین ہے ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی، پھر آپ نے وضو فرمایا، اور میں نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا۔
(صحیح بخاری ، رقم الحدیث: ۱۹۰)
۳- حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے ، آپ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا ، آپ نے وضو فرمایا، پھر لوگ آپ کے وضو کا باقی ماندہ پانی پینے لگے اور بدن پر ملنے لگے.
(صحیح بخاری ، رقم الحدیث: ۱۸۷)
بطورِ نمونہ تین روایات درج کی گئی ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی روایات کتبِ حدیث میں مذکور ہیں، ان احادیث کی رو شنی میں فقہاءِ کرام نے وضو کے بعد بچا ہوا پانی پینا وضو کے آداب میں سےلکھا ہے، چاہے کھڑے ہوکر پیے یا بیٹھ کر ۔ فقط واللہ اعلم
محترم قارئین:ایک بات یاد رکھیں شیخ الوظائف دامت برکاتہم اپنے تسبیح خانہ میں اعمال اور وظائف بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں ۔
