زمانے میں کہیں علوم وفنون کے ماہرین گزرے اور کہیں روحانیت و ولایت کے سرتاج، لیکن ایک شخصیت ایسی بھی تھی جو بیک وقت علم وعرفان، رموزِ قرآن وحدیث سے آگاہی کے ساتھ علم وفضل، اخلاق و اخلاص، تقویٰ و پرہیزگاری میں بھی بے مثال تھی۔ ان کا اسمِ گرامی سید العارفین، امام المفسرین حجۃ اللہ فی الارض الشیخ مولانا محمد عبداللہ بہلوی مجددی رحمۃ اللہ علیہ تھا۔ آپ کے علم وفضل سے جہاں انسان سیراب ہوئے، وہاں وہ مخلوق بھی بھرپور نفع اٹھاتی رہی جو عام انسانی نگاہوں سے اوجھل ہے اور اسے ”جنات“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں جنات سے متعلق بے شمار واقعات رونما ہوتے رہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ایک مرتبہ بارشوں کے موسم میں بادلوں کی گہرائی نے آسمان کو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بدل دیا۔ بہلی شریف جو حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا مسکن تھا، وہاں کے لوگ ضرورت کی اشیاء خریدنے کیلئے قریبی قصبے غازی پور میں جاتے۔ اس وقت بھی انہیں دیا جلانے کیلئے تیل کی ضرورت تھی۔ موسم ناہموار، ہر طرف ویرانہ اور بادلوں کی کڑک، رات کا وقت، پریشانی تھی کہ کس طرح تیل لا کر دیا جلا یا جا سکے اور معمولات کا تعطل دور ہو۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے حکم دیا کہ کوئی ہمت کر کے قصبہ غازی پور جائے اور مٹی کا تیل لائے۔ یہ حکم فرما کر شیخ رحمۃ اللہ علیہ تو گھر کی طرف چل پڑے لیکن ایک طالب علم اٹھا، لمحے بھر میں تیل کا پورا کنستر اٹھایا اور مدرسہ میں پہنچا دیا۔
یہ طالب دراصل جناتی مخلوق میں سے تھا۔ جب اس بات کی اطلاع شیخ رحمۃ اللہ علیہ تک پہنچی تو شیخؒ اسی وقت جلالی تمتمات سے تشریف لائے اور فرمایا: تم نے عہد دیا تھا کہ تم کوئی ایسا کام نہیں کرو گے جس سے تمہاری اصلیت افشاں ہو جائے اور دیگر طالبانِ علم ومعرفت خوف زدہ ہوں۔ تم نے عہد توڑ دیا ہے، لہٰذا اب مدرسے میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ بے چارہ بہت منت سماجت کرتا رہا اور حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلسل انکار پر جنات کے پورے قبیلے اور سردار کو لے آیا۔ چنانچہ معافی ملنے کے بعد مدرسہ کا داخلہ تو مل گیا، مگر اسے دیگر طلباء سے اوجھل کر دیا گیا جس کا قلق اس کو ہمیشہ رہا۔ اسکے قبیلے کے تمام جنات شیخ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور ہمیشہ کیلئے دیگر طلباء وسالکین سے اوجھل رہنا کا پکا عہد دیا۔
(منجانب۔ مفتی حسین احمد بہلوی مدظلہٗ شعبہ نشر واشاعت خانقاہ بہلویہ نقشبندیہ مجددیہ شجاع آباد)
