قارئین! آج ہم آپ کو مولانا قمر عثمانی صاحب کی زبانی ایک ایسی ہستی کا واقعہ سناتے ہیں، جو اپنے وقت کے علامہ لاہوتی پراسراری تھے اور جنات کے ساتھ معاملات کیا کرتے تھے ۔ مولانا قمر عثمانی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ منادی رحمتہ اللہ علیہ اپنے پیر ومرشد شیخ ولی العراقی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح جنات کو کھلے میدان میں پڑھایا کرتے تھے۔ وہ ایسی بارعب جگہ تھی ، جہاں کسی کو بھی جانے کی ہمت نہ پڑتی ۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے شادی بھی قوم جنات ہی میں کروائی ہوئی تھی۔ چنانچہ ہر سال میں ایک مرتبہ جب اپنی فصل کاٹتے تو قوم جنات کیلئے مہمان نوازی کا انتظام فرماتے ۔ جس میں جنات کی بہت بڑی تعداد شریک ہوتی۔ یہ سارا انتظام اسی کھلے میدان کے پاس موجود ایک بڑے گھر میں ہوتا لیکن صبح ہونے پر وہاں کسی قسم کی دعوت کا کوئی نام ونشان نہ ملتا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر والے قوم جنات کے ساتھ آپ کی گفتگو اور ان کے سوال و جواب سنتے ۔ اہل خانہ میں سبھی حضرات ان باتوں سے واقف تھے.
(بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے صفحہ 172 ناشر : محبوب بک ڈپو، اتر پردیش انڈیا )
