حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے 7 خوش نصیب جنات


عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے متعلق واقعات کا ہمارے اکابر کی زندگی میں کیا ثبوت ہے، آئیے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج ایک اور واقعہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب (سابق مدرس دار العلوم ، انڈیا) لکھتے ہیں کہ شیخ ابوالفضل جو ہری رحمتہ اللہ علیہ مصر کے بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ ایک شخص ان کی شہرت کا چرچہ سن کر ان کی خدمت میں حاضر ہو تو ان کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگا: دنیاوی شان وشوکت رکھنے والا شخص اللہ کا ولی کیسے ہوسکتا ہے؟ اور مایوس ہوکر واپس چل پڑا۔

راستے میں ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا تو ازراہِ ہمدردی اس سے رونے کی وجہ پوچھی۔ کہنے لگی : بیٹا میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی ہے ، جس کی دو دن کے بعد شادی ہے، مگر اس پر کوئی ظالم جن مسلط ہو گیا ہے۔ سوچتی ہوں کہ بیٹی کو اس سے نجات کیسے ملے گی؟ ( قارئین ! اب جو لوگ عبقری میگزین میں ایسے واقعات پڑھ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بھلا انسانوں کو جنات کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ ان کیلئے یہ واقعہ ایک روشن مثال ہے ) بہر حال وہ شخص کچھ دم درود جانتا تھا تو کہنے لگا: اماں جی ! آپ پریشان نہ ہوں ، میں آپ کی بیٹی کا علاج کروں گا۔ چنانچہ جب وہ اس عورت کے ساتھ گھر پہنچا تو اس کی بیٹی عجیب و غریب حرکتیں کر رہی تھی۔

اس شخص نے اس پر دم کیا تو جن حاضر ہو گیا اور کہنے لگا: میں ان 7 جنات میں سے ہوں جنہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آج ہم ساتوں جنات حضرت شیخ ابوالفضل” کے پیچھے نماز پڑھنے حاضر ہوئے ہیں، جن سے تم بدگمان ہو کر واپس جارہے ہو۔ ہم جب یہاں سے گزر رہے تھے تو اس لڑکی نے گندگی پھینکی جو مجھ پر گری اور میں گندگی میں لتھڑ گیا۔ میرے باقی 6 ساتھی تو نماز میں شریک ہونے چلے گئے مگر میں محروم رہ گیا، اس لیے مجھے اس پر غصہ آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ اب مجھے تم پر بھی غصہ ہے کہ تم اس ولی اللہ کے بارے بدگمانی کرتے ہو؟ جن کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے ہم اتنی دور سے آئے ہیں؟ وہ شخص کہنے لگا: میں تو بہ کرتا ہوں کہ آئندہ ان کے متعلق دل میں برا خیال نہیں لاؤں گا مگر تم بھی اس لڑکی پر شفقت کرتے ہوئے اسے معاف کردو۔ چنانچہ وہ جن چلا گیا اور لڑ کی صحت یاب ہوگئی ۔ پس جب وہ شخص حضرت ابوالفضل رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں واپس پہنچا تو انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا: سبحان اللہ تمہیں جب تک ایک جن سے گواہی نہ مل گئی ، ہمارے متعلق یقین ہی نہ آیا؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025