قارئین! عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے واقعات اگر خود ساختہ اور من گھڑت کہانیاں ہیں تو پھر ہمارے اکابر و اسلافؒ کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات کیا تھے؟ حضرت مفتی حسین احمد بہلوی مدظلہٗ (خانقاہ بہلویہ نقشبندیہ مجددیہ، شجاع آباد) فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا عبداللہ بہلوی رحمۃ اللہ علیہ جب بستی بہلی شریف میں موجود تھے، اس وقت وہاں زیادہ سواریاں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ لوگ زیادہ تر پیدل ہی آیا جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضرتؒ کے عقیدت مند ایک اللہ والے آندھی اور بارش کے باوجود پیدل سفر کرتے ہوئے خانقاہ کی طرف جا رہے تھے۔ راستہ بھی کچا تھا۔ اچانک ایک مخلوق (جنات) سامنے آ گئی تو وہ ڈر گئے اس مخلوق نے کہا: ڈرو نہیں! ہم حضرت بہلویؒ کے خادم ہیں اور آپ کو لینے آئے ہیں.
آئیں ہمارے ساتھ چلیں (قارئین! غور فرمائیں! یہ کیفیت بالکل وہی کی وہی ہے جو عبقری کے ہر دلعزیز کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ میں بیان کی جاتی ہے) وہ صاحب بعد میں بتانے لگے کہ جب میں ان کے ساتھ جا رہا تھا تو مجھ پر بارش اور آندھی کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ جب خانقاہ میں پہنچا تو حضرت بہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسجد کے صحن میں موجود تھے اور اپنے ہاتھ مبارک میں گُڑ لیے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے: سردی ہے یہ کھا لو، میرے فقیروں نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا؟ پھر حکم فرمایا کہ جا کر سو جاؤ اور خود نمازِ تہجد میں مشغول ہو گئے۔ بندہ (مفتی حسین احمد بہلوی) نے یہ واقعہ مسجدِ نبوی شریف میں ایک بزرگ سے سنا اور حضرت والد ماجد مدظلہٗ سے بھی یہی واقعہ کئی مرتبہ سن چکا ہوں.
(منجانب: شعبہ نشر و اشاعت خانقاہ بہلویہ نقشبندیہ مجددیہ، شجاع آباد)
