قارئین ! عبقری میگزین میں جنات کے واقعات شائع ہونے پر کچھ لوگوں کی طبیعت میں گرانی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ ہمارے اکابر واسلاف کا یہ مزاج تھا کہ جنات سے تعلقات کو مبارک خیال کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ دارالعلوم کے اولین شیخ الحدیث سید احمد حسن امروہوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق ان کے پوتے مولانا پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی لکھتے ہیں :
میرے دادا حضرت مولانا سید احمد حسن امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق امروہہ شہر میں یہ بات عام طور پر مشہور تھی کہ جب وہ درس حدیث ارشاد فرماتے تو اس میں جنات بھی شریک ہوتے تھے۔ اس بات کی تصدیق میرے والد مولانا حافظ سید محمد رضوی اور خود میرے دادا مولانا سید احمد حسن رحمہما اللہ کی ہے۔ چنانچہ جب میرے دادا نے اپنے استاد قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: مبارک ہو میر احمد حسن ! تمہارے درس میں جنات شریک ہوتے ہیں۔ لہذا علمائے دیوبند میں میرے دادا کو یہ فضیلت حاصل تھی کہ ان کے درس حدیث میں جنات بھی شریک ہوتے تھے.
(بحوالہ کتاب: شیخ الحدیث اول دار العلوم ، سید العلماء حضرت مولانا احمد حسن محدث امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے احوال و آثار ، صفحہ 386 ناشر : مکتبہ رشید یه نزد مقدس مسجد اردو بازار، کراچی)
قارئین ! درج بالا واقعے پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جنات سے ملاقاتیں اور تعلقات ایسی لازوال حقیقت ہے ، جس کا تذکرہ سامنے آتے ہی بڑے بڑے اکابر علماء سر تسلیم خم کر دیتے تھے مگر افسوس ! آج ہم قرآن و سنت اور اپنے اکابر کی ترتیب سے اتنا دور ہو گئے کہ خود صراط مستقیم پر چلنے والوں ہی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔
