شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو ابھی کچھ عرصہ قبل چند صحابہ کرام ؓ کی خواب میں زیارت ہوئی وہ زیارت’’ اکابر پر اعتما د ‘‘
قسط نمبر 441میں شائع بھی ہوئی ہے اس خواب میں صحابہ کرام و اہل بیت عظام ؓسےشیخ الوظائف کا عشق نمایاں اور صحابہ کرام ؓ کی شفقتیں بھی واضح ہیں اس خواب میں جو حکم فرمایا گیا اس کے چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں :
(1)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ اپنی ’’مونچھیں‘‘ ترشواتے تھے کبھی منڈوائی یا جڑ سے اکھاڑی نہیں ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ہے:آتش پرستوں کی مخالفت کرو، مونچھیں ترشواؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔
(مسلم، الصحیح، 1: 222، رقم: 260۔أحمد بن حنبل، المسند، 2: 365، رقم: 8764، مصر: مؤسسة قرطبة)
(2)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں ہے کہ:نبی کریم ﷺ اپنی’’ مونچھیں‘‘ مبارک کتروایا کرتے تھے اور اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(ترمذي، السنن، 5: 93، رقم: 2760، بیروت: دار احیاء التراث العربي۔طبراني، المعجم الکبیر، 11: 277، رقم: 11725، الموصل: مکتبة الزہراء)
حضرت عمر فاروق ؓ کی مونچھیں:(3)حضرت سیِّدُنا ذر بن جیش رضی اللہ عنہ ہ فرماتے ہیں :حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی’’ مونچھوں ‘‘کے بال دائیں بائیں سے کافی بڑھے ہوئے تھے اور اُن میں بھورا پن بھی تھا۔
(معرفۃ الصحابۃ ، معرفۃ نسبۃ الفاروق ، معرفۃ صفۃ عمر ، ج۱ ، ص۶۹ ، الرقم: ۱۷۰۔الاستیعاب ، عمر بن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۳۶)
(4)حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو جلال آتا تو اپنی’’ مونچھوں ‘‘کو تاؤ دیتے تھے۔ ‘‘
(معجم کبیر ، صفۃ عمر بن الخطاب ، ج۱ ، ص۶۶ ، حدیث: ۵۴ ، الاستیعاب ، عمر بن الخطاب ، ج۳ ، ص۲۳۶)
(5)حضرت سیِّدُنا اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو جب جلال آتا تو اپنی’’ مونچھوں‘‘ کو اپنے منہ کی طرف کرتے اور ان میں پھونک مارتے۔ ‘‘
(طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۴۸)
خواب میں صحابہ کرام ؓکی زیارت باسعادت’’ اکابرؒپر اعتماد ‘‘اور ان سے عشق ہی کا نتیجہ ہے۔
یادرکھیں۔۔۔! شیخ الوظائف عملیات ووظائف بناتے یا گھڑتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔
