عبقری میں ذکر کردہ جناتی حملوں کی پہلی دلیل

ماہنامہ عبقری کے ہر شمارے میں جنات کے انسانی زندگی پر اثرات اور ان کی وجہ سے ہونے والی مشکلات کا تذکرہ ہوتا ہے اس قسم کے واقعات کو سطحی علم رکھنے والے لوگ اپنی عقل کی ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہوئے جھوٹے افسانے قرار دیتے ہیں جبکہ قرآن و سنت میں جابجا ان کی اس کارستانی کا تذکرہ ہے۔ احادیث مبارکہ کے چند واقعات پڑھیے اور اپنی عقل پر ماتم کیجئے۔

بچے کی پیدائش کے وقت جنات کا حملہ: انسانی دشمنی جنات کے رگ و ریشے میں اس طرح پیوست ہو چکی ہے کہ وہ ہر انسان پر اس کی پیدائش کے وقت بھی حملہ آور ہو جاتا ہے جو کہ ابھی بولنے چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں پر اپنی دونوں انگلیاں چھوتا ہے سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم کے وہ ان کو چھونے کیلئے آیا مگر (اللہ تعالیٰ نے آگے پردہ کر دیا اس لیے) انگلیاں پردے میں چھبیں (بخاری) اور دوسری روایت میں ہے کہ شیطان کے انگلی چھونے کی وجہ سے بچہ چیخ مارتا ہے۔ (فتح الباری) ہم جب پیدا ہوتے ہیں تو جنات ہمارے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ یہ وہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ہم زندگی کے بابرکت لمحات اور خوشگوار زندگی گزاریں یا سکھ کا سانس لیں۔

اسی لیے عبقری کا مشن یہ ہے زیادہ سے زیادہ ان کی کارستانیوں کو بیان کیا جائے اور ان سے بچنے کیلئے اللہ کے نام کا سہارا لیا جائے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026