مولانا مفتی عاصم عبداللہ صاحب لکھتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم! میں آپ کو چند باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ ایک بات میرے لئے، ایک تیرے لئے، ایک تیرے میرے درمیان اور ایک تیرے اور لوگوں کے درمیان ہے۔ جو میرے لئے وہ یہ کہ میری عبادت کرنا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ جو بات تیرے لیے وہ یہ کہ جو عمل تم کرو گے میں اس کا پورا پورا اجر دوں گا۔ جو تیرے اور میرے درمیان وہ یہ کہ دعا تم کرو گے قبول میں کروں گا۔ اور جو تیرے اور لوگوں کے درمیان وہ یہ کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرو وہی ان کے لئے پسند کرو۔ حضرت آدمؑ نے عرض کیا آپ کا ہر فیصلہ عدل ہے۔
میں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ہے مجھے آپ اپنے ہاں ٹھکانہ نہ دیں۔ آپ مجھے قبول فرما لیں، اللہ نے فرمایا: اے آدم! میں نے قبول کیا۔ پھر حضرت جبرائیلؑ نے ان دونوں کو جمع کر دیا تو حضرت آدمؑ نے فرمایا: اے حوا مجھے بھوک لگی ہے۔ حضرت حوا نے کہا یہاں کھانا کہاں ہے کھانا تو جنت میں ہے پھر دیکھا کہ جنات روٹیاں پکا رہے ہیں اور کھا رہے ہیں۔ حضرت حوا نے ایسا ہی کیا جیسا کہ جنات نے کیا چنانچہ دونوں حضرات نے کھانا کھایا اور پانی پیا پھر ان کے پیٹ میں مڑور ہوا تو بول براز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے فرمایا اے آدم! میں چاہتا ہوں کہ تیری نسل سے اپنے شہروں کو آباد کروں تب حضرت آدمؑ حضرت حوا کے پاس صبح کے وقت جاتے تھے اور حضرت حوا شام کو دو جڑواں بچے جنتی تھیں.
(بحوالہ کتاب: سنہرے اوراق، صفحہ نمبر 20، ناشر: مکتبہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی، کراچی)
