عبقری میں شائع کردہ جنات کے واقعات کا انکار کرنے والے اس حدیث کے متعلق کیا کہیں گے؟

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حجاج سلمی رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کی صورت یہ ہوئی کہ وہ اپنی قوم کے کچھ سواروں کے ساتھ مکہ کے ارادے سے نکلے۔ رات کو یہ لوگ ایک وحشت ناک وادی میں پہنچے تو گھبرا گئے۔ ان کے ساتھیوں نے کہا: اٹھو! اور اپنے لیے اور ہمارے لیے اس وادی کے سردار جن سے امن مانگو۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر یہ الفاظ پڑھے: میں اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ہر اُس جن سے پناہ دیتا ہوں، جو اس پہاڑی رستے میں موجود ہے، تاکہ میں اور میرے ساتھی صحیح سالم اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے کسی نظر نہ آنے والے (جن) کو سورۃ رحمٰن کی آیات پڑھتے ہوئے سنا۔ پس جب یہ لوگ مکہ مکرمہ پہنچے تو انہوں نے قریش کی ایک مجلس میں یہ بات سنائی تو قریش بولے: اے حجاج آپ نے ٹھیک کہا: یہ کلام بھی اسی کلام میں سے ہے جس کے متعلق حضرت محمد ﷺ فرماتے ہیں کہ ان پر یہ کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اتنے میں عاص بن وائل آیا تو کہنے لگا؛ جس جن نے ان لوگوں کو یہ کلام سنایا ہے، وہی جن تو حضرت محمد ﷺ کی زبان پر یہ کلام جاری کرتا ہے۔ حضرت حجاج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عاص کی یہ بات سن کر میرے بعض ساتھی اسلام لانے سے رُک گئے مگر میری بصیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ پھر میں اونٹنی پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے حق بات سنی ہے، اللہ کی قسم! یہ اسی کلام میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ لہٰذا میں نے عرض کی؛ یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے اسلام سکھا دیجئے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026