محترم قارئین ! عبقری کا ہر دل عزیز کالم جنات کا پیدائشی دوست میں جنات کے واقعات یا شاہی قلعے میں موجود موتی مسجد میں جنات کا موجود ہونا بعض لوگ اسے بے یقینی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے اکابر و اسلاف کی جنات سے دوستی یا انکی خدمت میں جنات کا شاگرد بننا، وقت گزارنا اور صرف انہی کو اپنے اس شاگرد جن کا پتہ ہونا اور ان کے علاوہ کسی کو جنات کے وجود کا وہم و گمان نہ گزرنا ، جیسے واقعات بکثرت ملتے ہیں ۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں لاکھوں علماء کے محسن محبوب حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ سے بھی ثبوت مل رہا ہے۔
حضرت مولانا محمد فاروق بجنوری صاحب فرماتے ہیں کہ دار العلوم میں میرے کمرے میں عمر مونگیری نامی ایک طالب علم ساتھ رہتا تھا اس کے جن ہونے کا انکشاف اس طرح ہوا کہ ایک دن میں اسے طاق میں رکھی ہوئی ماچس اٹھانے کا کہا : تو اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے ہاتھ لمبا کر کے اٹھادی جس سے میں ڈر گیا اور بھاگ کر حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کیا حضرت رحمتہ اللہ نے فرمایا کہ : اچھا آج اس نے خود کو ظاہر کر دیا خیر گھبرانے کی بات نہیں وہ بھی تم جیسا طالب علم ہی ہے اس کے بعد میں کمرے میں واپس آیا تو وہ موجود نہ تھا اور پھر اس کے بعد کبھی بھی نظر نہ آیا.
( بحوالہ کتاب: اکیسویں اور بیسویں صدی کے ناقابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ نمبر : 192 ، ناشر: مکتبہ الارسلان، کراچی )
