حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ اپنے مریدوں کے ساتھ کسی علاقے میں گئے اور مریدوں سے کہا رات گزارنے کے لیے کوئی کرائے کا مکان تلاش کرو۔ کافی تلاش بسیار کے باوجود بھی مکان نہ مل سکا۔ البتہ ایک ایسا مکان ملا جس پر عرصہ دراز سے جنات کا قبضہ تھا اور یہ بات مشہور تھی کہ جو شخص اس میں رات گزارتا ہے، وفات پا جاتا ہے۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے وہی مکان کرائے پہ لے لیا۔ تمام مریدوں اور علاقے کے لوگوں نے بہت منع کیا لیکن حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اپنی رائے پہ قائم رہے۔ بالآ خرتن تنہا سونے کے لیے اس مکان میں تشریف لے گئے۔ تمام لوگوں نے اس انداز سے انہیں رخصت کیا جیسے انہیں حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کا یقین ہو گیا ہو۔
بہر حال حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس گھر میں جاتے ہی عشاء کی نماز پڑھی اور اپنے معمول کے ذکر واذکار کرتے ہوئے لیٹ گئے ۔ کچھ دیر بعد یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ان کے پاؤں دبا رہا ہے تو انہوں نے فرمایا: مجھے اپنے پاؤں دبوانے کی کوئی ضرورت نہیں، اگر تم میری رضا چاہتے ہو تو یہ مقبوضہ علاقہ فوراً خالی کر دو۔ یہ سن کر وہ جن اپنے بورے کنبے سمیت وہ گھر چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا اور یہ وصیت کر گیا کہ آئندہ کوئی بھی جن یہاں نہ آئے ۔ چنانچہ آج تک اس علاقے میں کوئی شریر جن نظر نہیں آیا۔ بعد میں وہ علاقہ کے نام سے مشہور ہوا، جہاں آج تک دارالعلوم دیو بند قائم ہے.
( بحوالہ کتاب: نا قابل فراموش سچے واقعات ، صفحہ نمبر : 193 ، مؤلف: محمد انور بن اختر ، ناشر: مکتبہ ارسلان، کراچی )
