جدید سائنسی دور میں پتھر کے دور والے جاہلانہ اعتراض

مولانا ارسلان بن اختر میمن لکھتے ہیں کہ : بعض اوقات نیک جنات بد کار انسانوں کو سزائیں بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ امام ابن عقیل رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب الفنون میں فرماتے ہیں: ہمارا ایک مکان تھا، جس میں جو شخص بھی رات گزارتا صبح کو اس کی لاش ہی ملتی ۔ ایک مرتبہ ایک مغربی نوجوان آیا ، اس نے اس مکان کو پسند کر کے خرید لیا۔ وہاں رات بسر کی اور صبح کو صحیح سلامت بیدار ہوا۔ پڑوسی اس بات سے کافی حیران ہوئے ۔ وہ نوجوان بہت عرصے تک اسی مکان میں مقیم رہا، پھر کہیں اور جانے لگا تو اس سے زندہ رہنے کا سبب پوچھا گیا۔

اس نے بتایا کہ جب میں اس مکان میں عشاء کی نماز کے بعد قرآن کریم کی تلاوت کرتا تو ایک رات گھر میں موجود کنویں سے ایک پر اسرار نوجوان باہر نکلا اور اس نے مجھے سلام کیا۔ میں ڈر گیا تو وہ کہنے لگا : آپ ڈرئیے مت ، مجھے بھی کچھ قرآن کریم سکھائیے ۔ چنانچہ میں اسے قرآن کریم سکھانا شروع ہو گیا۔ ایک دفعہ میں نے اس سے سوال کیا کہ اس مکان کا قصہ کیا ہے جو اس میں رہنے والا کوئی بھی زندہ نہیں بچتا تھا؟ وہ بولا: دراصل ہم مسلمان جنات ہیں ۔ ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت بھی کیا کرتے ہیں۔ اس گھر میں آپ سے پہلے اکثر شراب پینے والے اور بدکار لوگ آئے تو ہم نے گلا گھونٹ کر انہیں مار ڈالا۔ )

محترم قارئین ! امام ابن عقیل رحمتہ اللہ علیہ کے اس واقعے سے ثابت ہوا کہ جب گھروں میں گناہوں اور نافرمانیوں کا رواج آئے گا تو سزا کے طور پر اللہ پاک انسان پر ایسی مخلوق مسلط کر دے گا ، جو انہیں نظر آئے بغیر ہمیشہ مختلف قسم کی مشکلات اور حادثات کی بندشوں میں گرفتار رکھے گی۔ ماہنامہ عبقری کے ذریعے مخلوق خدا میں ماشاء اللہ یہ شعور بیدار ہو چکا ہے کہ دوسرے جراثیم کی طرح جنات بھی ہمیں متاثر کرتے اور بیماریوں میں مبتلاء کرتے ہیں ۔ ان سے بچنے کا واحد حل ، اعمال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پابندی اور ذکر الہی کی کثرت ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ کوئی راستہ اور کوئی منزل نہیں۔ کچھ لوگ سائنسی ترقی ہونے کے باوجود بھی یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جنات کا کوئی وجود نہیں ، یا جنات انسانوں کو نہیں چمٹ سکتے ۔ حالانکہ اب تو سائنس نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ جنات انسانوں کو نہ صرف چمٹ جاتے ہیں، بلکہ انہیں کئی کئی سال تک مختلف امراض میں جکڑے رکھتے ہیں۔

جن کا علاج ادویات کے ساتھ ساتھ اگر دم درود اور ورد وظیفے سے کیا جائے تو زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ سروسز ہسپتال لاہور پاکستان کے ایک مشہور ڈاکٹر کا انٹرویو آج کل سوشل میڈیا پر بہت معروف ہو چکا ہے اور وہ بتارہے ہیں کہ اگر مریضوں کا علاج سورۃ رحمن کی آڈیو تلاوت سنانے کے ذریعے کیا جائے تو سو فیصد رزلٹ ملتا ہے۔ حالانکہ لاعلاج مریضوں کیلئے سورۃ رحمن کا یہی عمل گزشتہ کئی سال سے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ اپنے دروس و بیانات اور عبقری میگزین کے ذریعے لوگوں کو بتا کر ان کی دادرسی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ لوگوں کو بالکل درست راہ پر لگار ہے اور ان کی دنیا آخرت کے مسائل سلجھا رہے ہیں۔

فجزاهم الله عناء عن جميع المومنین خیر الجزاء

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025